وزارتِ داخلہ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ شہریوں کے بایومیٹرک ڈیٹا کو الگ الگ رکھنے کا عمل فوراً بند کیا جائے اور پورے ملک میں ایک ہی فیشل ریکگنیشن (چہرہ شناسی) نظام کو استعمال میں لایا جائے۔ اس نظام پر مکمل عمل درآمد 31 دسمبر 2025 تک مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔
یہ فیصلہ اسلام آباد میں نادرا ہیڈکوارٹرز میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کیا گیا، جس کی صدارت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی۔
نادرا کے چیئرمین محمد منیر افسر نے ڈیٹا مینجمنٹ اور سیکیورٹی سے متعلق اہم امور کا جائزہ پیش کیا۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کیا کہ مختلف سروس فراہم کنندگان اور حکومتی ادارے شہریوں کا بایومیٹرک ڈیٹا مقامی سطح پر الگ الگ ذخیرہ کر رہے ہیں، جس سے اس ڈیٹا کے غلط استعمال یا چوری کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ جو افراد فنگر پرنٹ کی شناخت میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں، ان کے لیے نادرا کے تصدیق شدہ اور محفوظ مرکزی ڈیٹا بیس کے ذریعے چہرہ شناسی کا استعمال ناگزیر ہے۔
چیئرمین کا کہنا تھا کہ ناقص بایومیٹرک تصدیق کے مسائل کا مستقل حل نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی تناظر میں وزیر داخلہ نے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے فوری طور پر تمام ایسی موبائل سمز کو بلاک کرنے کا حکم دیا جو منسوخ شدہ قومی شناختی کارڈز پر جاری کی گئی تھیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








