متحدہ عرب امارات کے مڈل آرڈر بلے باز آصف خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف میچ میں شکست ان کی ٹیم کی ناتجربہ کاری کا نتیجہ تھی اگر ٹیم کے کھلاڑی تجربہ کار ہوتے تو میچ کا نتیجہ مختلف ہو سکتا تھا۔
شارجہ میں کھیلے گئے تین ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کے دوسرے میچ میں پاکستان سے 31 رنز کی شکست کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے آصف خان نے کہا کہ ان کی ٹیم نے بہتر کھیل پیش کیا تاہم تجربے کی کمی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات نے بڑی ٹیموں کو ویک اپ کال دے دی ہے اور وہ آئندہ ایشیا کپ کے لیے پُرامید اور پُراعتماد ہیں۔
آصف خان نے اس میچ میں 35 گیندوں پر 77 رنز کی جارحانہ اننگز کھیلی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کا منصوبہ میچ کے آخری اوورز میں پاور ہٹنگ کا تھا جس پر عمل کیا گیا لیکن پاکستان کی معیاری بولنگ نے انہیں مکمل کامیاب نہیں ہونے دیا۔
انہوں نے کپتان محمد وسیم کی اننگز کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کا رن آؤٹ ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا۔ آصف خان نے مزید کہا کہ شارجہ ہمارا ہوم گراؤنڈ ہے اور یہاں کی فضا نے ٹیم کا حوصلہ بڑھایا ہم نے حالیہ ہفتوں میں سخت ٹریننگ کی ہے جس کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔
اپنے بیان میں آصف خان نے یہ بھی کہا کہ اماراتی ٹیم کی اصل طاقت ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ ہے۔ اگر ان کی بولنگ حریف ٹیم کو 170 یا 180 رنز تک محدود کر دے تو جیت کے امکانات روشن ہو جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس میچ میں پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 208 رنز کا ہدف دیا تھا جس کے جواب میں متحدہ عرب امارات کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 8 وکٹوں کے نقصان پر 176 رنز بنا سکی۔
واضح رہے کہ آصف خان 1990 میں لاہور میں پیدا ہوئے تھے اور پاکستان میں 2007 سے 2014 تک 32 فرسٹ کلاس میچ کھیل چکے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








