جان بچانے والی ادویات کی عدم دستیابی، حکومت کی تاخیر نے عوام کو بڑی مشکل میں ڈال دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

ادویات
(فوٹو: دی کرنٹ)

حکومت گزشتہ چھ ماہ سے زائد عرصے سے زندگی بچانے والی جدید ادویات کی قیمتوں سے متعلق نوٹیفکیشن کی منظوری میں مسلسل تاخیر کر رہی ہے۔ وفاقی کابینہ کے متعدد اجلاسوں میں ان ادویات کی نئی قیمتوں کا تعین ایجنڈے میں شامل رہا، تاہم حتمی فیصلے میں تاخیر کے باعث ملک میں جدید اور ضروری ادویات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔

پاکستان فارماسیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین توقیر الحق کے مطابق پرائس نوٹیفکیشن کے انتظار میں زیرِ غور ادویات کی فہرست گزشتہ 6 سے 8 ماہ میں بڑھ کر تقریباً 60 سے 70 تک پہنچ چکی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں کینسر، دل کے امراض اور ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں کیلئے جدید علاج تک رسائی محدود یا ختم ہو گئی ہے۔

صنعتی ذرائع کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اور وزیر خزانہ کی سربراہی میں قائم پرائسنگ کمیٹی ان ادویات کی قیمتوں کا تعین پہلے ہی کر چکی ہے۔ تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی کابینہ کی جانب سے ان قیمتوں کی حتمی منظوری اور نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جا سکا، جس سے عمل آگے نہیں بڑھ سکا۔

اس تاخیر کے باعث مقامی مارکیٹ میں ان نئی ادویات کی باقاعدہ دستیابی تقریباً رک گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ صرف جدید ادویات کی قیمتوں کے تعین سے متعلق ہے، جبکہ ممکنہ طور پر حکومت کی جانب سے اسے پہلے سے موجود ادویات کی قیمتوں کے مسئلے کے ساتھ خلط ملط کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں اس مسئلے نے جنم لیا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مسلسل تاخیر سے غیر منظم یا اسمگل شدہ ادویات کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جو مریضوں کیلئے سنگین طبی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ اس صورت حال نے ریگولیٹری وضاحت اور فوری فیصلہ سازی کی ضرورت کو مزید نمایاں کر دیا ۔ ڈریپ کی جانب سے قیمتوں کی سمری بھی متعدد بار کابینہ کو ارسال کی گئی، تاہم منظوری کا عمل ابھی تک رکا ہوا ہے۔

Related Posts