دہلی یونیورسٹی کی ایک طالبہ چترا نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کرکے تعلیمی حلقوں میں شدید ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے۔ وائرل ویڈیو میں طالبہ نے اپنے شعبے کے ایک پروفیسر اور ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پر ہراسانی، بدسلوکی اور دباؤ ڈالنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں جس کے بعد سوشل میڈیا پر اس معاملے پر شدید بحث چھڑ گئی ہے۔
چترا کے مطابق چند روز قبل انہوں نے ایک انسٹاگرام ریل کے ذریعے اپنے پروفیسر کے مبینہ غیر مناسب رویے اور بدتمیزی کو سامنے لایا تھا۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد، طالبہ کا کہنا ہے کہ شعبے کے سربراہ نے انہیں اپنے دفتر طلب کیا اور ویڈیو ڈیلیٹ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ چترا کے مطابق انہیں یہ دھمکی بھی دی گئی کہ اگر ریلز ڈیلیٹ نہ کی گئیں تو ان کی یونیورسٹی میں پڑھائی اور مستقبل کو نقصان پہنچایا جائے گا۔
طالبہ نے مزید دعویٰ کیا کہ اس دباؤ کے دوران ان کا ایڈمٹ کارڈ بھی روک لیا گیا جبکہ بعض ہم جماعت طلبہ نے بھی ایچ او ڈی کے سامنے ان کے خلاف بیانات دیئے۔ چترا کا الزام ہے کہ یہ طلبہ اندرونی اسیسمنٹ میں بہتر نمبرز کے عوض اپنا مؤقف بدل رہے ہیں۔
A student named Chitra at #DelhiUniversity was allegedly harassed by a professor over a certain issue. She created a reel about the incident and posted it on Instagram.
When the head of the department found out about the reel, they pressured her to delete it.
However, Chitra… pic.twitter.com/alyUU3K8bg
— Hate Detector 🔍 (@HateDetectors) December 12, 2025
اپنی ویڈیو میں چترا نے واضح کیا کہ وہ پروفیسر کے کمرے میں اکیلے جانے کو غیر مناسب سمجھتی ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے اس سے انکار کیا۔ انہوں نے دو ٹوک موقف اختیار کیا کہ وہ کسی دباؤ میں آ کر نہ تو ویڈیو ڈیلیٹ کریں گی اور نہ ہی خاموش رہیں گی۔
یہ جذباتی ویڈیو سوشل میڈیا پر خصوصاً انسٹاگرام اور ایکس (سابق ٹوئٹر) پر تیزی سے پھیل رہی ہے۔ صارفین کی بڑی تعداد دہلی یونیورسٹی انتظامیہ سے مطالبہ کر رہی ہے کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور طالبہ کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔
دہلی یونیورسٹی انتظامیہ اور نہ ہی کسی سرکاری ادارے کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے آیا ہے جس کے باعث معاملے پر بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
یہ تنازع صرف ایک طالبہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے تک محدود نہیں بلکہ اس نے تعلیمی اداروں میں طاقت کے ممکنہ غلط استعمال، طلبہ کے تحفظ اور احتسابی نظام پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ طلبہ تنظیمیں، حقوقِ نسواں کے کارکنان اور عوامی حلقے اس معاملے میں شفاف کارروائی کے منتظر ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








