بھارتی کسانوں کے احتجاج پر 5سالہ پلان متعارف، دہلی چلو مارچ رک گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

بھارتی دارالحکومت دہلی کی پڑوسی ریاستوں میں مودی حکومت کی جانب سے پنجسالہ پلان متعارف کرائے جانے کے بعد کسانوں کا احتجاج اور ”دہلی چلو مارچ“ روک دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی جانب بڑھتا ہوا کسانوں کا مارچ یونین حکومت کی جانب سے 5سالہ منصوبہ سامنے آنے کے بعد روکا گیا ہے جس میں حکومت نے دالوں اور کپاس سمیت کسانوں کی فصلوں کو کم از کم سپورٹ پرائس پر خریدنے کی تجویز دی۔

کم از کم سپورٹ پرائس جسے ایم ایس پی کا نام دیا جارہا ہے جبکہ چندی گڑھ کی مقامی حکومت اور مظاہرین کے مابین مذاکرات کا چوتھا دور اتوار کی شب ختم ہوا تھا جس کے بعد احتجاج کرنے والے کسانوں نے حکومت سے تجاویز پر مذاکرات کیلئے 2 روز کا وقت مانگ لیا ہے۔

کسانوں کے دیگر مطالبات اپنی جگہ برقرار ہیں جبکہ ایم ایس پی سے مراد حکومت کی جانب سے مظاہرین کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ان کی فصلوں کی  کم از کم مقررہ قیمت ہے، یوں ایم ایس پی کسانوں کیلئے معاشی تحفظ کی ایک امید سمجھی جارہی ہے جس پر غوروخوض جاری ہے۔

مقامی حکومت کے وزیر پیوش گویال کا کہنا ہے کہ کو آپریٹو سوسائٹیز کسانوں سے معاہدہ کر لیں گی جو مختلف دالیں اگاتے ہیں تاکہ ان کی فصلوں کو کم ازکم قیمت (ایم ایس پی) پر خریدا جائے جو کہ آئندہ 5سال کیلئے نافذ العمل ہوگی تاہم دیگر فصلیں خریدنے پر مقامی حکومت کو تحفظات ہیں۔

مقامی حکومت سمجھتی ہے کہ اگر دیگر فصلیں خریدی گئیں تو بھارت کی برآمدات کم ہوجائیں گی اور عوام کو کم قیمت دالیں بھی میسر نہیں آسکیں گی۔ حکومت کی جانب سے ایم ایس پی کی یقین دہانی کے بعد کسانوں کی تنظیم نے قومی زرعی کو آپریٹو فیڈریشن سے معاہدے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ 

Related Posts