کراچی میں تین تلوار کے مقام پر اقلیتی برادری اور سول سوسائٹی کی جانب سے شمعیں روشن کرکے جڑانوالہ واقعے کے متاثرین سے اظہار یکجہتی کیا گیا، اس دوران ٹریفک جام ہونے سے گاڑیوں کا رش لگ گیا۔
عورت مارچ اور اقلیتی حقوق مارچ کی جانب سے کینڈل لائٹ ویجل کا اہتمام کیا گیا جس میں درجنوں شہریوں نے حصہ لیا۔
اس موقع پر مختلف پلے کارڈز اٹھائے شرکاء نے 16 اگست کو پرتشدد ہجوم کے ہاتھوں حملے کا نشانہ بننے والوں سے تعزیت کے لیے شمعیں روشن کیں۔
اس دوران تین تلوار کے آس پاس گاڑیاں پھنسنے سے علاقے میں ٹریفک کی روانی میں خلل پیدا ہوا اور مسافروں کو اپنی منزلوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں:
بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کے ہاتھوں ایک اور مسلمان نوجوان جاں بحق
سولہ اگست کو جڑانوالہ میں مبینہ طور پر قرآن کریم کی بے حرمتی کے بعد پر تشدد ہجوم نے متعدد گرجا گھروں میں توڑ پھوڑ کی اور مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والوں کے گھروں پر حملہ کیا۔
توہینِ قرآن کی افواہوں کے بعد ہجوم نے کم از کم دو سے تین مختلف چرچز پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ لوگ چھت پر چڑھنے کے بعد چرچ کا سامان باہر پھینک رہے ہیں اور عمارت پر نصب صلیب پر ہتھوڑے برسا رہے ہیں۔
ان حملوں نے ملک کے سیاسی رہنماؤں کی توجہ بھی حاصل کی جنہوں نے مسیحی برادری کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کی مذمت کی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








