ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارت کی جانب سے رات گئے پاکستان کے چھ مختلف علاقوں پر کیے گئے چوبیس فضائی حملوں کے نتیجے میں 8پاکستانی شہری شہید جبکہ 35زخمی ہو گئے ہیں۔
پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ بھی ان کے ہمراہ موجود تھے۔ ترجمان پاک فوج نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو شہری تاحال لاپتہ ہیں، جن کی تلاش جاری ہے۔
آزاد کشمیر کے علاقے کوٹلی میں مسجدِ عباس پر حملے کے دوران ایک سولہ سالہ لڑکی اور ایک اٹھارہ سالہ لڑکا شہید ہو گئے، جبکہ ایک خاتون اور ان کی بیٹی زخمی ہوئیں۔
پنجاب کے شہر مریدکے میں ایک اور مسجد کو نشانہ بنایا گیا، جہاں ایک شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہواجبکہ دو افراد لاپتہ ہیں۔ اس شہر پر مجموعی طور پر چار مختلف حملے کیے گئے جن میں ایک رہائشی کوارٹر کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
سیالکوٹ کے علاقے کوٹلی لوہاراں میں ایک گولہ ناکارہ رہا جبکہ دوسرا ایک غیر آباد مقام پر گرا، خوش قسمتی سے یہاں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
شکرگڑھ میں دو بھارتی حملوں نے ایک مقامی ڈسپنسری کو نقصان پہنچایا۔ مظفرآباد کے علاقے شاہیوالی میں سات فضائی حملے کیے گئے جن میں مسجدِ بلال تباہ ہو گئی اور ایک کم عمر بچی زخمی ہوئی۔
سب سے زیادہ جانی نقصان احمد پور شرقیہ میں ہوا، جہاں سبحان مسجد پر چار حملوں کے نتیجے میں پانچ شہری شہید ہوئے، جن میں ایک تین سالہ بچی بھی شامل ہے۔ ان حملوں میں مسجد اور چار گھروں کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ مجموعی طور پر اکتیس افراد زخمی ہوئے جن میں چھ خواتین شامل ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے اس حملے کو بھارتی فوج کی اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








