ڈیرہ غازی خان کی ایک سرکاری جامعہ میں مبینہ طور پر ایک اور سنگین جنسی ہراسانی اور زیادتی کا اسکینڈل منظرِ عام پر آ گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک ویڈیو پیغام میں متاثرہ طالبہ نے الزام عائد کیا ہے کہ جامعہ کے دو پروفیسروں نے اُسے ہاسٹل میں بلا کر پوری رات جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اب وہ نہ صرف اسے بلکہ اس کی کم عمر بہن کو بھی بلیک میل کر رہے ہیں۔
ڈی جی خان یونیورسٹی میں ایک اور جنسی سکینڈل سامنے آگیا۔دو پروفیسروں نے مُجھے اپنے ہاسٹل بلایا اور پوری رات زیادتی کی،اب وہ میری چھوٹی بہن کو بلیک میل کرتے ہیں مُجھے بلیک میل کر رہے ہیں۔ڈی ایس صاحب کو کئ درخواستیں دی ہیں لیکن کوئی ایکشن نہیں ہو رہا ہے۔اب میں خودکشی کرلوں گی۔طالبہ pic.twitter.com/0VQjzkzQsn
— صحرانورد (@Aadiiroy2) August 13, 2025
طالبہ کے مطابق اس نے معاملہ کئی مرتبہ جامعہ کے ڈائریکٹر اسٹوڈنٹس (ڈی ایس) سمیت متعلقہ حکام کو تحریری درخواستوں کے ذریعے رپورٹ کیاتاہم اب تک کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں آئی۔
طالبہ نے ویڈیو میں شدید ذہنی دباؤ اور مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انصاف نہ ملنے کی صورت میں وہ اپنی جان لے لے گی۔
یہ ویڈیو سامنے آنے کے بعد طلبہ اور شہری حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے، اور متاثرہ طالبہ کو فوری انصاف فراہم کرنے کے مطالبات زور پکڑ گئے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنان نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ملزمان کے خلاف فوری قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








