کیا حکومت نے آئینی عدالت کے قیام پر مولانا فضل الرحمن کو رام کرلیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو گلف ٹوڈے

جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مکمل آئینی عدالت کے بجائے پانچ یا چھ رکنی آئینی بنچ بنانے کی تجویز دی ہے، جس کے بعد قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ حکومت کے ساتھ ان کی سیٹلمنٹ ہوگئی ہے۔

تاہم ان قیاس آرائیوں کے حوالے سے جمیعت علماء اسلام کے سینیٹر اور لیگل ٹیم کے ممبر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں معلوم مولانا فضل الرحمان نے آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے یا نہیں۔

نجی چینل آج کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر آپ مجھ سے پوچھ رہے ہیں تو یہ خبر آپ کے پاس آئی ہوگی لیکن میرے پاس نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی طور پر ہمیں کسی مسودے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ہمارے پاس آئینی ترمیم کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ پہلے ایک تجویز ہمارے ساتھ ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے شیئر کی تھی۔ پھر ہم نے جوابی تجویز پیش کی جس میں 23 شقیں ہیں۔ یہ مسودہ مولانا صاحب کے پاس ہے، اب وہ چاہیں گے تو اسے پبلک کریں گے یا پارٹی کے ساتھ شیئر کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان جب کراچی سے آئیں گے، تب ہی ان کا اگلا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ میرے خیال میں یہ کہنا مناسب نہیں ہوگا کہ مولانا صاحب نے اتفاق کیا ہے۔ میں سلمان اکرم راجہ سے رابطے میں ہوں۔

Related Posts