وادی تیراہ کے مکینوں کی نقل مکانی! آپریشن یا انتہائی سخت موسم؟ جانیں حقیقت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

خیبر پختونخوا کی وادی تیراہ سے ہزاروں خاندان ایک بار پھر اپنے گھروں سے نقل مکانی کر رہے ہیں جس نے علاقے کی صورتحال کو نہایت سنجیدہ بنا دیا ہے۔ وادی کے رہائشی سخت موسم، برف باری اور ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے خوف سے محفوظ جگہوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق لوگوں کے انخلا کی دو بڑی وجوہات ہیں: ایک طرف شدید برف باری نے رہائشیوں کو اپنی حفاظت کے لیے گھروں سے نکلنے پر مجبور کیا ہے جبکہ دوسری جانب کچھ رپورٹس میں سیکیورٹی خدشات اور ممکنہ عسکری کارروائیوں کے اندیشے بھی شامل ہیں جس نے مقامی آبادی میں خوف و تشویش پیدا کی ہے۔

تیراہ وادی کی کٹھن پہاڑی راستوں پر خاندان بچوں اور بزرگوں سمیت نقل مکانی کر رہے ہیں جہاں انہیں شدید سردی اور برف کی وجہ سے کئی مشکلات کا سامنا ہے۔ بدقسمتی سے، برف باری اور خطرناک راستوں کی وجہ سے بعض حادثات اور ہلاکتوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔

متاثرہ افراد میں سے کئی خاندان بارا پہنچ کر امدادی رجسٹریشن کے لیے کھڑے ہیں جہاں انہیں عارضی امداد کے طور پر دو ماہ کا کرایہ اور بنیادی ضروریات کیلئے تقریباً 250,000 روپے فراہم کیے جا رہے ہیں۔

حکومت کی جانب سے جاری کردہ موقف عوام کے لیے کچھ الجھا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا اور لوگوں کی نقل مکانی صرف سخت سرد موسم اور برف باری کی وجہ سے ہے جو ہر سال اس موسم میں معمول بنتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وادی میں گزشتہ کئی سالوں سے بڑے فوجی آپریشن نہیں ہوئے البتہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر دہشت گرد عناصر کے خلاف کارروائیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ اس کے باوجود بعض مقامی انتظامیہ اور قبائلی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ لوگوں کو بعض علاقوں کو خالی کرنے کی ہدایت دی گئی جس پر اختلافات بھی سامنے آئے ہیں۔

یہ صورتحال نہ صرف تیراہ بلکہ آس پاس کے علاقوں میں بھی غیر یقینی کا باعث بن رہی ہے جہاں سرد موسم، سیکیورٹی خدشات اور نقل مکانی کے ملا جلا اثرات نے عوام کو روزمرہ زندگی میں شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے۔

Related Posts