پاکستان سمیت دنیا بھر میں ہندو برادری دیوالی کا تہوار منا رہی ہے جس کے دوران کورونا وائرس کی روک تھام کیلئے ایس او پیز پر عمل درآمد ضروری قرار دیا گیا ہے۔
دئیے جلانا دیوالی کی اہم رسم سمجھی جاتی ہے اور ہندو بچے اور بڑے چراغاں کرکے خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔

بھارت کے ساتھ ساتھ پاکستان سے لے کر ملائشیاء تک ہندو برادری نے سال کے سب سے بڑے تہوار کو فائر ورکس دوست احباب سے ملاقاتوں میں گزارا۔
پھلجھڑیاں اور پٹاخے وغیرہ بھی ہندو کلچر کے تحت دیوالی کی تقریب کا اہم حصہ ہیں جس کے دوران خواتین اور بچے خوب انجوائے کرتے ہیں۔

شاپنگ اور خریداری بھی دیوالی کے اہم لوازمات میں سے ایک ہے جس کے دوران دیوالی میں جلانے کیلئے چراغ، پھلجھڑیاں اور دیگر آئٹمز خریدے جاتے ہیں۔

دیوالی کے پر مسرت موقعے پر گھروں کو بھی دلہن کی طرح سجایا جاتا ہے اور ہندو برادری کے گھر روشنی اور رنگوں سے مزین نظر آتے ہیں۔

ماتھے پر رنگ بکھیرتے ہوئے تلک لگانا ہندو معاشرے کی اہم رسم ہے جس کا دیوالی کے دوران بھی اہتمام کیا جاتا ہے۔
صرف رنگ اور روشنیاں ہی نہیں بلکہ ہندو گھرانے مل بیٹھ کر دیوالی کے روز خدا سے مختلف دعائیں بھی کرتے ہیں جنہیں ہندی میں پرارتھنا کہا جاتا ہے۔

ہندو اپنے بھگوان رام اور میا سیتا کی تصاویر سامنے رکھ کر اسے روشنیوں سے مزین کرکے پوجا پاٹ بھی کرتے ہیں جو دیوالی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

ننھی منی بچیاں گھروں اور مندروں میں ہاتھوں میں چراغ لے کر دیوالی کا تہوار مناتی نظر آتی ہیں، جس پر سب گھر والے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر دیوالی ہندو کلچر کا ایک ایسا حصہ ہے جس کے دوران بچوں سے لے کر بڑے اور بوڑھوں تک ہر شخص خوشی کا اظہار کرتا نظر آتا ہے۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں










