کیا آپ جانتے ہیں آپ کی جیب میں موجود قومی کرنسی نوٹوں میں اردو املا کی کتنی غلطیاں موجود ہیں؟

تازہ ترین

تازہ ترین

قومی کرنسی نوٹ، فائل فوٹو

کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میں روزمرہ استعمال ہونے والے کرنسی نوٹوں پر اردو زبان کی متعدد بنیادی غلطیاں موجود ہیں، مگر اسٹیٹ بینک آف پاکستان آج تک ان کی تصحیح کی طرف توجہ دینے میں ناکام رہا ہے۔

زبان و ادب سے وابستہ حلقوں نے نشاندہی کی ہے کہ موجودہ کرنسی نوٹوں پر کم از کم چھ ایسی نمایاں لسانی اور گرامر کی غلطیاں ہیں جو نہ صرف اردو زبان کے اصولوں کے خلاف ہیں بلکہ ایک قومی دستاویز پر موجود ہونے کے باعث تشویشناک بھی ہیں۔

سب سے پہلی غلطی لفظ “بینک” سے متعلق ہے۔ ماہرین کے مطابق “بینک” دراصل انگریزی لفظ Bank کا اردو روپ ہے، جبکہ خالص اردو میں درست املا “بنک” ہونا چاہیے۔ اگرچہ اس کی ادائیگی درست ہے، تاہم املا کی یہ غلطی آج بھی ہر پاکستانی کی جیب میں موجود ہر نوٹ پر نمایاں طور پر درج ہے۔

دوسری بڑی غلطی لفظ “روپیہ” کے استعمال سے متعلق ہے۔ اردو قواعد کے مطابق “روپیہ” واحد کا صیغہ ہے، جبکہ کرنسی نوٹوں پر “پانچ ہزار روپیہ” اور “ایک سو روپیہ” لکھا گیا ہے، حالانکہ یہاں جمع کا صیغہ “روپے” استعمال ہونا چاہیے تھا۔ یہ ایک بنیادی گرامر کی غلطی ہے جو برسوں سے نظرانداز کی جا رہی ہے۔

تیسری غلطی جملے “حاملِ ہذا” سے متعلق ہے۔ ماہرین زبان کے مطابق “حاملِ ہذا” کا مطلب ہوتا ہے ادا کرنے والا، رکھنے والا یا دینے والا، جبکہ کرنسی نوٹ کے تناظر میں درست جملہ “حاملِ نوٹِ ہذا” ہونا چاہیے۔ قواعد کے مطابق “حامل” اور “ہذا” کے درمیان کسی اسم کا ہونا ضروری ہے تاکہ ملکیت اور مفہوم واضح ہو سکے۔

چوتھی غلطی لفظ “مطالبہ” کے استعمال میں سامنے آتی ہے۔ اردو زبان کے حسن کے مطابق ہر لفظ ایک خاص ردھم کے ساتھ ادا ہوتا ہے۔ “مطالبہ” واحد کا صیغہ ہے، جبکہ کرنسی نوٹ پر یہاں جمع کا صیغہ درکار ہے، جو “مطالبے” ہونا چاہیے تھا۔

پانچویں غلطی اردو گرامر کے ایک بنیادی اصول کی خلاف ورزی ہے۔ اردو میں وہ الفاظ جو الگ الگ لکھے جا سکتے ہوں، انہیں جوڑ کر نہیں لکھا جاتا۔ کرنسی نوٹ پر لفظ “کریگا” لکھا گیا ہے، حالانکہ درست املا “کرے گا” ہے اور اسے الگ الگ لکھنا ضروری ہے۔

چھٹی اور آخری بڑی غلطی جملے “ضمانت سے جاری ہوا” میں پائی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہاں درست جملہ “ضمانت پر جاری ہوا” ہونا چاہیے، کیونکہ حکومتِ پاکستان ہر کرنسی نوٹ کی ضامن ہے اور اردو قواعد کے مطابق یہاں “سے” کے بجائے “پر” کا استعمال ہی درست ہے۔

زبان و ادب کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کرنسی نوٹ ایک قومی دستاویز کی حیثیت رکھتے ہیں اور ان پر اس نوعیت کی غلطیاں نہ صرف اردو زبان کے ساتھ ناانصافی ہیں بلکہ قومی تشخص پر بھی سوالیہ نشان ہیں۔ بنک دولت پاکستان کو ان غلطیوں کی اصلاح پر توجہ دینی چاہئے۔

Related Posts