پرنس رحیم آغاخان کو دنیا بھر میں سربراہ مملکت کا پروٹوکول کیا دیا جاتا ہے؟ دلچسپ حقائق

تازہ ترین

تازہ ترین

پرنس رحیم آغاخان
اسماعیلی کمیونٹی کے روحانی پیشوا پرنس رحیم آغاخان ، فائل فوٹو

اسماعیلی برادری کے پچاسویں حاضر امام پرنس رحیم آغا خان ان دنوں پاکستان کے دورے پر موجود ہیں، جہاں وہ مختلف اہم مصروفیات میں شریک ہیں۔

پرنس رحیم آغاخان جو آغا خان پنجم ہیں، گزشتہ روز جب پاکستان پہنچے تو انہیں سربراہِ مملکت کا پروٹوکول دیا گیا۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے خاتونِ اول آصفہ زرداری کے ہمراہ ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا، جس کے بعد سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں یہ سوال زیرِ بحث آیا کہ آخر ایک غیر ریاستی شخصیت کو اس قدر اعلیٰ پروٹوکول کیوں دیا جاتا ہے۔

آغاخان کا مقام

درحقیقت پرنس رحیم آغا خان صرف ایک مذہبی رہنما نہیں بلکہ دنیا بھر میں موجود نزاری اسماعیلی مسلمانوں کے روحانی اور انتظامی سربراہ سمجھے جاتے ہیں۔ اسماعیلی برادری انہیں اپنے وقت کا امام مانتی ہے اور یہ امامت کا سلسلہ صدیوں پر محیط تاریخی حیثیت رکھتا ہے اور اسماعیلیہ مسلک کے پیروکاروں کا ماننا ہے کہ پرنس رحیم آغاخان اولاد رسول ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں عالمی سطح پر ایک غیر معمولی مذہبی اور سماجی شخصیت تصور کیا جاتا ہے۔

ہز ہائنس کا خطاب

آغا خان خاندان کو کئی ممالک میں خصوصی احترام حاصل ہے۔ انہیں “His Highness” یعنی “عالی جاہ” کا خطاب بھی دیا جاتا ہے، جو عموماً شاہی یا ریاستی شخصیات کیلئے مخصوص سمجھا جاتا ہے۔

انسانی خدمات

اس کے علاوہ آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این) دنیا کے درجنوں ممالک میں تعلیم، صحت، غربت کے خاتمے، ثقافت اور انسانی ترقی کے شعبوں میں سرگرم عمل ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر ان کے تعلقات سربراہانِ مملکت اور بین الاقوامی اداروں تک پھیلے ہوئے ہیں۔

اسماعیلی امامت کی بین الاقوامی حیثیت

بعض ممالک خصوصاً پرتگال، نے اسماعیلی امامت کو خصوصی بین الاقوامی قانونی حیثیت بھی دے رکھی ہے، جس کے نتیجے میں آغا خان خاندان کو سفارتی نوعیت کی مراعات اور اعلیٰ پروٹوکول فراہم کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف ممالک میں ان کے دوروں کے دوران ریاستی سطح کا استقبال دیکھنے میں آتا ہے۔

اگرچہ قانونی طور پر پرنس رحیم آغا خان کسی ملک کے صدر یا بادشاہ نہیں، تاہم ان کی مذہبی، تاریخی، فلاحی اور بین الاقوامی حیثیت کے باعث کئی ممالک انہیں سربراہِ مملکت جیسا پروٹوکول دیتے ہیں۔

Related Posts