بیف کے نام پر گدھے کا گوشت؟ وزارت خوراک کا ہوش اڑا دینے والا انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے وزارت تجارت اور وزارت قومی غذائی تحفظ کو ہدایت کی ہے کہ گدھوں کے گوشت اور کھالوں کی نقل و حرکت پر مکمل نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ یہ اشیاء کسی صورت مقامی فوڈ چین میں داخل نہ ہوسکیں۔

ای سی سی کو بتایا گیا کہ 2015 میں وزارت قومی غذائی تحفظ نے ایک سمری میں نشاندہی کی تھی کہ گدھوں کی کھال کی برآمدات میں تیزی آرہی ہے جس کے باعث گدھوں کو غیر قانونی اور بے رحمانہ انداز میں ذبح کیا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ گدھے کے گوشت کو بعض علاقوں میں گائے کے گوشت کے طور پر فروخت کیے جانے کے شواہد بھی سامنے آئے تھے۔ اس پس منظر میں گدھوں کی کھال کی برآمدات پر مکمل پابندی عائد کی گئی تھی۔

اب ایک نظرثانی شدہ تجویز کے تحت وزارت خوراک نے سفارش کی ہے کہ مخصوص شرائط کے ساتھ کھالوں کی برآمد کی اجازت دی جائے۔ تجویز کے مطابق، صرف گوادر فری زون میں موجود رجسٹرڈ اور منظور شدہ مذبح خانوں سے حاصل شدہ کھالوں کی ہی برآمد ممکن ہو گی۔ ان زونز کو گوادر ٹیکس فری رولز 2021 اور ایکسپورٹ پروسیسنگ زون (ترمیمی) ایکٹ 2023 کے تحت ریگولیٹ کیا جاتا ہے جس سے توقع ہے کہ غیر قانونی کاروبار کی روک تھام ممکن ہوسکے گی۔

بڑے پیمانے پر گدھے کا گوشت فروخت کیے جانے کے انکشاف پر اسلام آباد میں ہلچل مچ گئی

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تجویز پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ گدھوں کی نقل و حمل اور گوشت و کھال کی نگرانی کے طریقہ کار میں ابہام موجود ہے۔ اس کے جواب میں وزارت خوراک نے بتایا کہ چین کے ساتھ گوشت اور کھالوں کی برآمد کے حوالے سے پروٹوکولز طے شدہ ہیں جن کے تحت مکمل نگرانی، رجسٹرڈ فارمز کا استعمال اور سخت قواعد و ضوابط لاگو ہوں گے۔

ذرائع کے مطابق وزارت تجارت نے ای سی سی کو آگاہ کیا کہ درآمدات و برآمدات (کنٹرول) ایکٹ 1950 کے تحت وفاقی حکومت کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی شے کی درآمد یا برآمد پر پابندی لگا سکتی ہے یا شرائط کے تحت اس کی اجازت دے سکتی ہے۔ پاکستان میں برآمدات کی موجودہ پالیسی 2022 کے ایکسپورٹ پالیسی آرڈر کے تحت نافذ العمل ہے جس میں متعدد اشیاء پر مکمل یا مشروط پابندیاں موجود ہیں۔

Related Posts