کراچی:ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر محمد سعید قریشی نے گرلزہاسٹل ویڈیو معاملے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی قائم کردی ہے جس نے کام کا آغاز کر دیا ہے، کمیٹی چوبیس گھنٹے میں رپورٹ پیش کرے گی۔
پرو وائس چانسلر پروفیسر کرتار ڈوانی کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے ہاسٹل کی سکیورٹی کی جانب سے معاملے سے غلط انداز میں نمٹنے کا نوٹس لیا ہے اور یقین دہانی کرائی ہے کہ اس ضمن میں جس کی بھی غلطی ثابت ہوئی اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔
اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ ویڈیو بنانے والی لڑکیاں ڈاؤ یونیورسٹی کی سابقہ طالبات ہیں، ڈاؤ یونیورسٹی کے ترجمان نے ایک اعلامیے میں بتایا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے کورونا وائرس کے حفاظتی اقدامات اور ایس اوپیز کی تعمیل میں تمام ہاسٹل خالی کرائے جانے کی ہدایات کے بعد تمام مقامی طالبات کو ہاسٹل خالی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔
ڈاؤ یونیورسٹی کے ترجمان نے واضح کیا کہ یونیورسٹی میں تمام قواعد کے مطابق ایمپلائز سندھ کے ڈومیسائل پر بھرتی کیے گئے ہیں، یونیورسٹی ملازمین کی بھرتیوں میں قواعد کو نظرانداز کرنے کی باتیں بے بنیاد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرلز ہاسٹل ویڈیو واقعے کی انکوائری مکمل ہوتے ہی میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔