کراچی:سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ کی جانب سے 30برس کے بعد نئے نصاب پر مشتمل گیارہویں جماعت کی اردو کی نئی کتاب شائع کی ہے، کتاب پُرانے عنوان ”گلزارِ اردو“ ہی کے نام سے اگست2021ء میں بازار میں پیش کی گئی ہے۔اشاعت اول کی تعداد 8ہزار ہے، جسے آزمائشی اشاعت کہا گیا ہے مگر اب ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق اسے گیارھویں جماعت کے نصاب میں شامل کرلیا گیا ہے۔
کتاب میں پیش کیے گئے شعری اور نثری مواد میں متنوع اقسام کی متعدداغلاط راہ پا گئی ہیں،کتاب میں قومی اتفاق“ کے عنوان سے سرسید احمد خان کے اس سبق کے آخرمیں حوالے کے طور پرماخوذ مقالات سرسید درج ہے۔ کہیں بھی مقالات سرسید کی جلد کاحوالہ موجود نہیں ہے۔ جب کہ یہ سبق مقالاتِ سرسید جلدپنجم میں ہے۔ایک اور مضمون ”فاقے کا روزہ“۔خواجہ حسن نظامی کا مضمون ہے۔
مگر اصل میں مضمون کا عنوان ”فاقہ میں روزہ“ ہے۔ یہ سبق ”بیگمات کے آنسو“ سے ماخوذ ہے۔ اُس میں بھی ”فاقہ میں روزہ“ ہی لکھا گیاہے۔ ”نظام المشایخ“جلد نمبر 3 اور ستمبر 1910ء میں بھی یہ مضمون ”فاقہ میں روزہ“ ہی کے نام سے شائع ہوا تھا۔ تعارف میں کتاب ”دہلی کی آخری شمع“مرزا فرحت اللہ بیگ کی ہے۔ جسے خواجہ حسن نظامی کا سمجھ کر اُن کی کتابوں میں شامل کرلیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ایک مضمون ”تخلیقِ کائنات“ از،آفتاب حسن،کتاب میں مضمون کا حوالہ موجود نہیں ہے۔ یہ مضمون دراصل ”زمین کے خزانے“ کے عنوان سے ہے،جس کا ذیلی عنوان ’پٹرولیم کی کہانی‘ہے۔ یہ مضمون انجمن ترقی اردو (ہند) دہلی کی کتاب ”جدید معلومات سائنس“سے لیا گیا ہے،جو 1954ء میں شائع ہوئی تھی۔یہ سائنسی مضمون 76 سال بعد2021کے نصاب میں شامل کیا جارہا ہے۔ پُرانی معلومات پر مبنی اس طرح کا مضمون شامل کرنا سمجھ سے بالاتر ہے کیوں کہ سائنس دانوں کو یقین ہے کہ اگلے بیس پچیس برسوں میں دنیا میں کہیں بھی پٹرول یا ڈیزل کی گاڑیاں فروخت نہیں ہوں گی۔
آئندہ نقل وحمل برقی گاڑیوں پر منتقل ہوجائے گا۔یہ برقی گاڑیاں، پیٹرول سے چلنے والے گاڑیوں کے مقابلے میں شان دار کارکردگی کی حامل ہوں گی۔نصاب میں شامل یہ مضمون کیا آج کے بچے کے لیے جدید سائنسی معلومات فراہم کررہا ہے۔کیوں کہ سائنسی ایجادات کا سلسلہ تو دنوں میں تبدیل ہوتا رہتا ہے۔پھر اتنے قدیم مضمون کو شامل کرنے کا مقصد کیا ہے۔ اس کے علاوہ ” ذریعہ تعلیم کے باب میں“ پروفیسر ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کے اس سبق کے آخر میں بھی حوالہ موجود نہیں ہے کہ یہ مضمون کہاں سے لیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ ”ملکہ بلقیس کا محل“قمر علی عباسی کا یہ سفرنامہ ”عمان کے مہمان“ سے ماخوذ ہے، مگر اس سفرنامے کو پڑھ کر احساس ہوتا ہے کہ صرف ملکہ سبا کا قصہ درج کیا گیا ہے۔ اس سفر نامے میں عمان کے معروف مقامات، وہاں کی تہذیب و ثقافت،وہاں کی گلیوں اور شاہراہوں، لوگوں اور ان کے رویوں اور دیگر لوازمات کا، جو سفرنامہ نگار بیان کرتے ہیں، کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ کتاب میں ایک اور ”خط مشفق خواجہ بہ نام صدیق جاوید“مشفق خواجہ کے تعارف میں ایک کتاب کا نام ”غالب اور صغیر بلگرامی“ لکھا گیا ہے جب کہ اصل میں کتاب کا نام ”غالب اور صفیر بلگرامی“ ہے۔ اسی طرح بہاول پور کے ایک دوست کا ذکر ہے جن کا نام سید احمد درج ہے جب کہ اُن کا نام سید سعید احمد تھا۔
معروضی سوالات میں ایک سوال ہے ”لائبریری میں مخطوطات موجود تھے“ اس کے ممکنہ جواب میں (الف)پانچ لاکھ (ب)چھے لاکھ(ج) سات لاکھ(د)آٹھ لاکھ درج ہے۔ جب کہ سبق میں مخطوطات کی تعداد صرف پانچ ہزار سے زیادہ لکھی ہے۔ اقبال عظیم کے تعارف میں اُن کی تصنیف ”مشرقی بنگال میں اردو“ کو ”مشرقی پنجاب میں اردو“ کر دیا گیا ہے۔ کتاب میں رئیس امروہوی کے تعارف میں ایک کتاب کا نام ”حکایت“ درج کیا گیا ہے۔ جب کہ اس کتاب کا نام رئیس امروہوی نے مولانا روم کی مثنوی کے پہلے شعر سے متاثر ہو کر ”حکایتِ نے“ لکھا ہے۔حوالے کے طور پر رئیس امروہوی(احوال و آثار)، ڈاکٹر سید قاسم جلال، مطبوعہ انجمن ترقی اردو پاکستان، کراچی، 2008، ص 38 ملاحظہ فرمائیے۔
کتاب میں افتخار عارف کے تعارف میں ایک کتاب کا نام”جہانِ علوم“ درج ہے۔ جب کہ اس کتاب کا نام ”جہانِ معلوم“ ہے۔ پروین شاکر کی تاریخ پیدائش افتخار عارف کی تاریخ پیدائش یعنی 1944 اور شہر لکھنو درج کر دیا گیا ہے۔جب کہ پروین شاکر کی تاریخ پیدائش 24 نومبر 1952ء اور شہر کراچی ہے۔ اسی طرح سے پروین شاکر کی نظم ”مشورہ“ (ماخوذ از: سخن سرا)درج ہے۔ پروین شاکر کی سخن سرا کے نام سے کوئی کتاب نہیں ہے۔ مرتبین نے اصل ماخذ کے بجائے ایک ویب سائٹ سخن سرا سے اس نظم کو لیا ہے۔ پروین شاکر کی کلیات ”ماہِ تمام“ تو تقریباً ہر کتاب فروش کے پاس موجود ہے تو پھر بھی اصل ماخذ سے استفادہ نہیں کیا گیا۔ خواجہ میر درد کی غزل 2 کے دو مصرعے کتاب کے مطابق ”غافل! خدا کی یاد پہ مت پُھول زِینہار“ ہے جب کہ دیوان کے مصرعہ میں ”بھول“لکھا ہے۔
حیرت انگیز طور پر کتاب میں سیکڑوں غلطیاں ہیں۔ جن کو ایڈیٹرز نے بھی نہیں دیکھا ہے۔ معلوم رہے درسی کتاب ترتیب دینا کوئی سرسری قسم کا کام نہیں ہوتا بلکہ کتاب میں پروف کی غلطی کی بھی گنجائش نہیں ہوتی جو کتاب میں کئی مقامات پر موجود ہے۔ ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ کتاب میں اغلاط کی دُرستگی کے بعد اس کو موجودہ تعلیمی سال کے بجائے آئندہ تعلیمی سال میں شامل کیا جائے تاکہ غلطیاں ختم کی جا سکیں۔
مزید پڑھیں: ای او بی آئی میں بدعنوان افسران نے فرض شناس افسر کومعطل کرادیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








