ڈاکٹر وردہ کے لرزہ خیز قتل سے متعلق کیس کا نیا پہلو سامنے آگیا، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) ایبٹ آباد نے منی لانڈرنگ کے شبے کے تحت وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کو خط لکھ کر ملزمان کی مالی تفصیلات طلب کرلیں۔
تفصیلات کے مطابق ڈی پی او ایبٹ آباد نے ایف آئی اے کو تحریر کیے گئے خط میں اپنے شبے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان نے ڈاکٹر وردہ کے اندوہناک قتل کیلئے مبینہ طور پر 30 لاکھ روپے کی خطیر رقم کی ادائیگی کی۔
اپنے خط میں ڈی پی او ایبٹ آباد نے ملزمان کی بنیادی تفصیلات طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اغوا کاروں کو 30 لاکھ روپے کی ادائیگی کی گئی۔ شبہ یہ ہے کہ کہیں یہ رقم منی لانڈرنگ کی سرگرمیوں میں استعمال تو نہیں ہوئی۔ ملزمان کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
خط میں ڈی پی او ایبٹ آباد نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کا سفری ریکارڈ بھی فراہم کیا جائے۔ اس کے علاوہ ملزمان کے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے لین دین سمیت دیگر تفصیلات بھی فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے، جس کا مقصد ملزمان کے خلاف تفتیش میں مزید پیشرفت کا حصول ہوسکتا ہے۔
خیال رہے کہ آج سے 3 روز قبل خیبرپختونخوا کے ضلع ایبٹ آباد کی پولیس نے ڈاکٹر وردہ قتل کیس میں مرکزی ملزمہ، ان کے شوہر اور دو دیگر ملزماں کو انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کر کے تین روزہ ریمانڈ حاصل کیا تھا۔
رواں برس ایبٹ آباد سے چار دسمبر کو لاپتا ہونے والی ڈاکٹر وردہ کی لاش اسی ضلع کے نواحی علاقے سے برآمد ہونے کے بعد تفتیش کاروں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی ایک قریبی دوست ردا نے انھیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر مبینہ طور پر قتل کردیا۔
بعد ازاں پولیس نے تصدیق کی تھی کہ ڈاکٹر وردہ کے قتل کے الزام میں ان کی بچپن کی دوست اور ان کے دو ساتھیوں کو گرفتار کیا گیا۔ ڈی پی او ایبٹ آباد ہارون الرشید کا کہنا تھا کہ مقتولہ نے دو برس قبل دبئی جانے سے پہلے 67 تولہ سونا اپنی ایک دوست کے پاس امانتاً رکھوایا تھا اور ’یہی سونا ڈاکٹر وردہ کے قتل کی وجہ بنا۔‘
اس کے بعد ملزمہ کے خاوند کو براہ راست قتل کے مقدمے میں نہیں بلکہ دھوکا دہی کے الزامات میں گرفتار کیا گیا، کیونکہ تفتیش کے دوران یہ انکشاف ہوا تھا کہ ملزمہ کے خاوند نے اپنی اہلیہ کو زیور واپس کرنے سے روکا تھا اور کہا تھا کہ تمہارا وردہ کے ساتھ اور بھی لین دین ہے جب تک وہ طے نہیں ہوتا اس وقت تک زیور واپس نہ کیے جائیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








