ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ہنگامی بنیادوں پر الرٹ جاری کرتے ہوئے چار جعلی اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے استعمال اور فروخت پر پابندی عائد کر دی ہے۔
گلگت بلتستان کی ڈرگ، واٹر اینڈ فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹ کے مطابق مسرون ٹیبلٹ (بیچ نمبر 48022)، کوٹفول او ڈی ٹیبلٹس (بیچ نمبر QL-001)، ڈپاسرون ٹیبلٹس (بیچ نمبر 2406) اور ڈروفا ٹیبلٹس (بیچ نمبر DRP-0004) کو ڈرگز ایکٹ 1976 کے تحت جعلی اور غیر معیاری قرار دیا گیا ہے۔ ان ادویات کے نام پر کراچی، لاہور اور دیگر شہروں میں مبینہ طور پر جعلی کمپنیوں کے ذریعے تیاری اور فروخت کی جا رہی تھی۔
ڈریپ کا کہنا ہے کہ یہ ادویات غیر رجسٹرڈ اور بغیر لائسنس کے تیار کی گئیں، جن کے معیار، حفاظت اور مؤثریت کے تمام لازمی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔ لیبارٹری ٹیسٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ بعض بیچز میں فعال دوا کا کوئی جز شامل ہی نہیں، جس سے مریضوں کو درست علاج میں خطرناک حد تک تاخیر ہو سکتی ہے۔
اتھارٹی نے ڈاکٹروں، فارمیسیوں اور عوام سے اپیل کی ہے کہ ان ادویات کی فروخت اور استعمال فوری بند کریں اور اگر کہیں یہ اسٹاک موجود ہو تو اس کی اطلاع ڈریپ یا مقامی محکمہ صحت کو دیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








