شہرِ قائد میں کارساز حادثہ کیس نیا رخ اختیار کرگیا، پولیس نے عدالت میں جمع کرائے گئے عبوری چالان میں ملزمہ نتاشا کا ڈرائیونگ لائسنس ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔
نجی ٹی وی جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں ملزمہ کا عبوری چالان جمع کرادیا، ملزمہ کے برطانوی ڈرائیونگ لائسنس کو پاکستان میں ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔ انٹرنیشنل ڈدرائیونگ پرمٹ نہ ہونے پر ڈرائیور گاڑی نہیں چلا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی ٹریفک لائسنس اینڈ ٹریننگ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے شہریوں کیلئے پاکستان میں گاڑی چلانے کیلئے انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ ضروری ہے۔چالان کے مطابق 20 اگست کو لیڈی ایم ایل او نے ملزمہ نتاشا دانش کے خون اور یورین کے نمونے لیے تھے۔
کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے شوہر کو گاڑی کے کاغذات، ڈرائیونگ لائسنس اور میڈیکل دستاویزات پیش کرنے کا کہنے کے باوجود دستاویزات پیش نہیں کی گئیں۔ شوہر نے صرف بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹس اور برطانوی ڈرائیونگ لائسنس کی نقل فراہم کی۔ ملزمہ پاکستانی ڈرائیونگ لائسنس سے محروم ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بغیر ڈرائیونگ لائسنس کے گاڑی چلانے پر دفعہ 322 کا نفاذ عمل میں لایا گیا۔ ماہرین سے رائے لی جارہی ہے۔ این ای ڈی یونیورسٹی کے چانسلر کو خط لکھ دیا گیا۔ یونیورسٹی گاڑی کی رفتار، ائیر بیگ اور دیگر عوامل کے حوالے سے پولیس کی معاونت کرے گی۔
چالان میں مزید کہا گیا کہ پولیس سرجن کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ملزمہ حادثے کے وقت آئس کے نشے میں تھی۔ نشے کی حالت میں غفلت اور لاپرواہی سے گاڑی چلانے کے باعث ملزمہ نے 3 موٹر سائیکلز اور ایک گاڑی روند ڈالی۔ حادثے کے نتیجے میں عمران عارف اور آمنہ عمران جاں بحق ہوئے تھے۔
سی سی ٹی وی کو فارنزک کیلئے لاہور بھیج دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حادثے کے نتیجے میں عبدالسلام اور شین الیگزینڈر زخمی ہوگئے تھے۔ چالان میں مدعی مقدمہ اور زخمی افراد سمیت مجموعی طور پر 15گواہان کو شامل کیا گیا ہے۔ مقدمے کی سماعت 19ستمبر تک ملتوی کردی گئی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








