کچے کے ڈاکو نہیں، ماں باپ ہی نکلے سوداگر، گیارہ سالہ پشتون بچی کے مبینہ اغوا کا ہوا ایسا ڈراپ سین کہ روح کانپ اٹھے!

تازہ ترین

تازہ ترین

مبینہ طور پر اغوا ہونے والی لڑکی حورم سعید، فوٹو آن لائن/ اسکرین گریب

سوشل میڈیا پر پچھلے چند دنوں سے جاری طوفان اور عوامی غصے کے بعد بالآخر گیارہ سالہ پشتون بچی حورم سعید کے مبینہ اغوا کا سچ سامنے آ گیا ہے، جسے “کچے کے ڈاکوؤں کا ظلم” سمجھ کر وائرل کیا جا رہا تھا وہ دراصل اپنوں ہی کی لالچ اور ایک باقاعدہ سودے بازی کا ڈرامہ نکلا ہے اور سامنے آنے والے ان حقائق نے اب اس پورے کیس کا رخ موڑ کر رکھ دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر عبداللہ جان صابر نامی پشاور کے ایک صحافی کے مطابق یہ معاملہ اغوا کا نہیں بلکہ باقاعدہ خرید و فروخت کا ہے جس کی شروعات مارچ کے مہینے میں ہوئی جب بچی کی ماں حورم سعید کو لے کر اسلام آباد آئی اور وہاں باجوڑ کے رہائشی اور راولپنڈی میں مقیم ‘نظام’ نامی دلال کے ذریعے پہلی ڈیل راولپنڈی کے علاقے 26 نمبر چنگی کے ایک کرائے کے مکان میں ہوئی جہاں یہ سودا 8 لاکھ روپے میں ایک قاری کے ساتھ طے پایا اور اس موقع پر بچی کی ماں خود وہاں موجود تھی، جس کے بعد وہ قاری ان دونوں کو لے کر سندھ روانہ ہوا اور وہاں جا کر اس نے کچے کے ایک رہائشی کے ساتھ بچی کا دوسرا سودا 15 لاکھ روپے میں کیا اور بچی کا نکاح اس شخص سے کروا دیا جبکہ اس پوری ڈیل میں صدام نامی شخص بھی موجود تھا اور ماں بھی سب کچھ جانتے ہوئے اس سودے میں برابر کی شریک تھی۔

معاملات اس وقت خراب ہوئے جب دلال نظام کا یہ پلان فیل ہو گیا جس نے بچی کی ماں کو یقین دلایا تھا کہ وہ پہلی ہی رات بچی کو وہاں سے نکال کر واپس پشاور پہنچا دے گا لیکن کچے کا وہ خریدار چالاک نکلا اور بچی وہاں پھنس گئی جس پر نظام اور بچی کی ماں کے درمیان لڑائی بھی ہوئی اور جب بچی کو واپس لانے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں اور ماں پر تشدد کیا گیا تو کراچی میں موجود بچی کے باپ کو اعتماد میں لے کر مایوسی کے عالم میں اغوا کا ڈرامہ رچایا گیا اور 8 اپریل 2026 کو شام 6:30 بجے کراچی کے ایک تھانے میں اغوا کی ایف آئی آر درج کروائی گئی۔

بعد میں جب سندھ پولیس کی طرف سے کوئی کارروائی نہ ہوئی تو بچی کی ماں نے پشاور پہنچ کر سوشل میڈیا پر یہ جھوٹ پھیلایا کہ بچی پشاور میں دکان گئی تھی اور اسے کچے کے ڈاکوؤں نے اغوا کیا ہے، تاہم یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر بچی واقعی پشاور سے اغوا ہوئی تھی تو ماں باپ نے پشاور کے بجائے کراچی میں ایف آئی آر کیوں کروائی؟

صحافی عبدللہ جان صابر کے مطابق یہی وہ تضاد ہے جو اس جھوٹ کو بے نقاب کرتا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہمدردی بٹورنے والی اس مہم کے پیچھے کچے کے ڈاکو نہیں بلکہ بچی کے اپنے قریبی لوگ اور دلال شامل ہیں جنہوں نے چند لاکھ روپوں کی خاطر معصوم کی زندگی داؤ پر لگائی اور اب تمام ثبوت سامنے آنے کے بعد اس کیس کا مکمل ڈراپ سین ہو چکا ہے۔

Related Posts