کراچی میں جرائم کی بدلتی ہوئی صورتحال، منشیات کی بڑھتی ہوئی اسمگلنگ اور پرتشدد واقعات نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دئیے ہیں۔ مختلف سنگین مقدمات کی تحقیقات کے دوران سامنے آنے والے روابط نے ایک بڑے نیٹ ورک کی نشاندہی کی ہے جو انمول عرف پنکی گینگ تک پہنچتے ہوئے مصطفیٰ عامر قتل کیس سے جڑتا دکھائی دیتا ہے۔ ایک کے بعد ایک گرفتاریوں نے اس نیٹ ورک کے کئی پہلو بے نقاب کیے تاہم ابتدائی مراحل میں سست روی اور کمزور تفتیش کے باعث مبینہ طور پر اہم کرداروں تک رسائی ممکن نہ ہو سکی۔
تفصیلات کے مطابق 8 فروری 2025 کو مصطفیٰ عامر قتل کیس میں اس وقت اہم پیش رفت ہوئی جب ملزم ارمغان کو ڈیفنس گزری کے علاقے میں واقع اس کے گھر سے پولیس مقابلے کے بعد گرفتار کیا گیا۔ اس کارروائی کے دوران ڈی ایس پی احسن ذوالفقار شدید زخمی ہوئے جو بعد ازاں مارچ کے مہینے میں دورانِ علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔
پولیس حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش میں ملزم ارمغان سے منشیات کے ایک وسیع اور منظم نیٹ ورک سے متعلق اہم انکشافات سامنے آئے جنہوں نے ملک بھر میں سرگرم ڈرگ کارٹل کے متعدد پہلوؤں کو بے نقاب کیا۔ انہی انکشافات کی بنیاد پر 22 فروری 2025 کو ساحر حسن نامی ملزم کو گرفتار کیا گیا جس پر بیرون ملک سے کوکین اور ویڈ کی ترسیل کے نیٹ ورک میں ملوث ہونے کا الزام تھا۔
تفتیش کا سلسلہ آگے بڑھا تو 6 مارچ 2025 کو شہر کے مبینہ بڑے کوکین ڈیلر فیضان عرف فیضی کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ ذرائع کے مطابق فیضان نے دورانِ تفتیش انمول عرف پنکی کے گروہ کو کوکین سپلائی کرنے والے نیٹ ورک سے متعلق اہم معلومات فراہم کیں جبکہ اس کے پنکی گینگ سے روابط کے شواہد بھی سامنے آئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انہی انکشافات کی بنیاد پر مصطفیٰ عامر قتل کیس میں بھی فیضان عرف فیضی کو شاملِ تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا لیکن بعد ازاں یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا اور تحقیقات سست روی کا شکار ہو گئیں۔ نتیجتاً منشیات کے کیس میں گرفتار فیضان 2025 میں رہائی پا گیا جس کے بعد اسے 2026 میں دوبارہ گرفتار کیا گیا تاہم کمزور شواہد کے باعث وہ ایک بار پھر رہا ہو گیا۔
ملزم نے دورانِ تفتیش انمول عرف پنکی کا نام بھی لیا مگر اس کے باوجود تفتیشی ادارے منشیات نیٹ ورک کی اصل جڑوں تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعض افسران کے مطابق اگر ارمغان کے نیٹ ورک کی بروقت اور سنجیدہ تفتیش کی جاتی اور شہید ڈی ایس پی احسن ذوالفقار پر حملے کے تمام پہلوؤں کو باریک بینی سے دیکھا جاتا تو ممکن تھا کہ ڈرگ کارٹل سے جڑے کئی اہم کردار پہلے ہی قانون کی گرفت میں آ جاتے۔
شہر میں منشیات کے بڑھتے ہوئے کاروبار اور اس سے جڑی مجرمانہ سرگرمیوں نے شہریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے تاہم اگر ارمغان کی گرفتاری کے بعد تمام متعلقہ ادارے ان انکشافات پر فوری اور سنجیدہ کارروائی کرتے تو نہ صرف کئی قیمتی جانیں محفوظ ہوسکتی تھیں بلکہ شہر میں پھیلتا ہوا منشیات کا نیٹ ورک بھی کافی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








