کراچی کے ضلع جنوبی میں 68مقام پر منشیات کی فروخت، ہیڈ محرر ڈیفنس بھی سرپرست نکلا

تازہ ترین

تازہ ترین

کراچی:ضلع جنوبی میں چرس، ہیروئن، آئس، کرسٹل ،افیون کے 68 سے زائد منشیات فروشوں کی فہرست مرتب ہوگئی، ہیڈ محرر ڈیفنس سمیت پولیس کے کئی افسران اور تھانیدار بھی براہ راست ملوث، اسپیشل برانچ نے سنسنی خیز انکشافات حتمی رپورٹ میں کردیئے۔

شہر بھر میں منشیات کا منظم نیٹ ورک آپریٹ کیا جارہاہے 363 منشیات فروشوں اور اڈوں کی مکمل رپورٹ پولیس کے اعلیٰ افسران کو ارسال کردی گئیں۔

انٹیلی جنس رپورٹ میں منشیات فروشوں کی سرپرستی کرنے والے100سے زائد افسران اور اہلکار بھی مکمل تفصیلات کے ہمراہ رپورٹ کا حصہ ہیں۔

رپورٹ میں بتایاگیا کہ ضلع جنوبی کے تھانہ موچکو، بوٹ بیسن،درخشاں، گزری، جیکسن، ڈیفنس، بغدادی، نبی بخش، کھارادر، گارڈن، ڈاکس، کلری ، کلاکوٹ، چاکیواڑہ، مدینہ کالونی میں منظم منشیات کا نیٹ ورک آپریٹ کیا جارہاہے۔

فہرست میں بتایاگیا کہ ڈیفنس،بوٹ بیسن، درخشاں اور گزری میں آئس کے کئی بڑے بیوپاری موجود ہیں جن کی سرپرستی اے ایس آئی ارشد وڑائچ جو کہ ہیڈ محرر ڈیفنس تعینات ہیں ہیڈ کانسٹیبل آفاق، پولیس اہلکار سلمان، آرام باغ تھانے میں تعینات نذیر حسین،ایس ایس پی ساؤتھ کے سابق پی ایس او بلال احمد،ہیڈ کانسٹیبل کامران عثمان،ایس ڈی پی او سول لائن آفس میں تعینات پولیس اہلکار محمد بابر،مدینہ کالونی میںتعینات اے ایس آئی مشتاق سمیت کئی اہلکار اور افسران منشیات فروشوں کی سرپرستی میں ملوث ہیں۔

مزید پڑھیں:فیکٹری مالکان کیساتھ متعلقہ ادارے بھی سانحہ مہران ٹاؤن کے ذمہ دار قرار

ہیڈ کانسٹیبل کامران عثمان سے متعلق حتمی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشافات کئے گئے ہیں کامران عثمان گزشتہ عرصہ دراز سے ضلع جنوبی میں تعینات ہے جو بڑے منشیات فروشوں کے نیٹ ورک کا حصہ بھی ہے۔ جبکہ ہیڈ محرر تھانہ ڈیفنس اے ایس آئی ارشد وڑائچ بھی تقریباً7سالوں سے ڈسٹرکٹ ساؤتھ میں ڈھیرے جمائے ہوئے ہیں جن سے متعلق کئی حقائق سامنے آنے کے باوجود ڈی آئی جی ساؤتھ جاوید اکبر ریاض طاقتور افسران اور اہلکاروں کے خلاف کوئی حکمت عملی تیار نہ کرسکے۔

اسپیشل برانچ کی رپورٹ کے باوجود تمام منشیات فروشوں کے سرپرست تاحال تعینات ہیں۔واضح رہے کہ انٹےلی جنس افسران کی جانب سے فہرست مرتب کئے جانے کے بعد آئی جی سندھ کو ارسال کردی گئی ہے تاہم آئی جی سندھ مشتاق مہر چھٹیوں پر بیرون ملک میں عارضی مقیم ہے قائم مقام چارج کامران فضل کے پاس موجود ہے جو کہ رپورٹ کی روشنی میں تاحال حتمی فیصلہ نہ کرسکے۔

ایس ایس پی کیماڑی فدا حسین جانوری نے انٹیلی جنس رپورٹ کی روشنی میں چار سے زائد اہلکاروں کو معطل کرکے ایس پی بلدیہ کیپٹن فیضان کو انکوائری افسر مقرر کیاگیا ہے۔ایس ایس پی ملیر نے 8 اہکاروں کر عہدوں سے برطرف کیا۔

Related Posts