آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قومی جنرل سکریٹری معین احمد نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو لکھے ایک خط میں الزام لگایا ہے کہ اس سال بد انتظامی کی وجہ سے ملک بھر کے عازمین حج کو مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس بد انتظامی کے لئے مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور ذمہ دار ہے۔ انہوں نے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
معین احمد نے کہا کہ درخواست فارم جاری کرنے سے لے کر عازمین کی وطن واپسی تک کی پوری ذمہ داری حج کمیٹی آف انڈیا کی ہے۔
انہوں نے خط میں کہا کہ خراب انتظامات کی واحد وجہ مرکزی وزارت اقلیتی امور کی حج کمیٹی آف انڈیا کے کام میں غیر ضروری مداخلت ہے، معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری کر کے مناسب کارروائی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بچے کی پیدائش پر باپ کو بھی ایک ماہ کی چھٹی ملے گی، صدر نے قانون منظور کرلیا
معین احمد نے کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ پارلیمانی انتخابات سے عین قبل ملک کے مسلمانوں کے سامنے ایسے مسائل آئے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حج 2023ء کے اعلان میں تقریباً چار ماہ کی تاخیر ہوئی جس کی وجہ سے ہر چیز متاثر ہوئی۔
معین احمد نے الزام لگایا کہ نریندر مودی کے حلقہ وارانسی سے تمام پروازیں منسوخ کر دی گئیں، اس کی وجہ سے وارانسی اور آس پاس کے اضلاع کے 3000 سے زیادہ عازمین کو لکھنؤ سے پروازیں لینا پڑیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








