سندھ حکومت کا پرائس چیکنگ اور فکسنگ نظام درہم بھرم، اب بیکری آئٹمز بھی عوام کی پہنچ سے دور

تازہ ترین

تازہ ترین

سندھ حکومت کا پرائس چیکنگ اور فکسنگ نظام درہم بھرم، اب بیکری آئٹمز بھی عوام کی پہنچ سے دور
سندھ حکومت کا پرائس چیکنگ اور فکسنگ نظام درہم بھرم، اب بیکری آئٹمز بھی عوام کی پہنچ سے دور

کراچی: سندھ حکومت کا پرائس چیکنگ اورفکسنگ کا نظام اپنی موت آپ مرچکا ہے، آٹا، دودھ، دہی، سبزیوں کے بعد اب بیکری آئٹمز کی قیمتوں میں بھی بیکری مالکان نے ازخود اضافہ کردیا ہے۔

قیمت میں اضافے کے بعد یہ اشیاء بھی عوام کی پہنچ سے دور ہوگئی ہیں جبکہ دوسری جانب سندھ حکومت خاموش تماشائی کا کرداراداکرہی ہے۔

شہر میں میں نرخ چیک اور مقررکرنے کے لئے محکمہ بیورو آف سپلائز اینڈ پرائس، محکمہ خوراک، بلدیہ عظمی کراچی، کمشنر کراچی، مارکیٹ کمیٹی کراچی و دیگرادارے موجود ہیں لیکن اشیاء خوردونوش کی قیمتوں کو چیک اور درست کرنے کے لئے کوئی ادارہ فعال نہیں ہے۔

سندھ حکومت نے بیورو آف سپلائیز اینڈ پرائسزکو محکمہ کا درجہ دے رکھا ہے اور اس کا وزیر بھی موجود ہے، گلشن اقبال میں محکمے کا بہترین دفتر واقع ہے جہاں سیکریٹری، ڈائریکٹر جنرل سمیت تمام عملہ موجود ہے لیکن نتیجہ پھر بھی صفر ہے۔

حکومت سندھ کی ناقص کارکردگی کے باعث دودھ  فروش، سبزی و فروٹ فروش اور اب بیکری مالکان اپنی مرضی کی قیمت پر اشیاء فروخت کررہے ہیں۔

گزشتہ دوہفتوں کے دوران بیکری مالکان نے پاپے کی فی کلو قیمت میں 80 روپے کا اضافہ کرکے قیمت 320 سے بڑھا کر 400 روپے کردی ہے جبکہ لارج، میڈئم اور اسمال بریڈ کی قیمت میں بھی 15 سے لیکر20 روپے تک فی بریڈ اضافہ کردیا ہے۔

میدے کی قیمت میں اضافے کوجواز بنا کر نان بائیوں نے روٹی کی قیمت میں بھی 5 روپے تک کا اضافہ کردیا ہے، لیکن متعلقہ محکمہ خوابِ خرگوش کے مزے لینے میں مصروف ہے۔

Related Posts