دنیا نیوز بھی جعلی خبریں شائع کرنے لگا! پروپیگنڈا یا غلط فہمی؟ وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر متعدد صارفین ایک ویڈیو کلپ شیئر کر رہے تھے جس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ یہ اسرائیل کے اندر ایک کمپاؤنڈ میں ہونے والا بڑا دھماکہ ہے جو مبینہ طور پر ایران کے خلاف جاری امریکا، اسرائیل جنگ کے دوران پیش آیا تاہم تحقیق سے یہ واضح ہوا کہ یہ ویڈیو پرانی ہے اور دراصل 2025 میں روس کے ایک آئل ریفائنری حملے کی ہے۔

دعویٰ

وائرل ویڈیو میں اسرائیل کے اندر ایک کمپاؤنڈ میں خوفناک دھماکہ دکھایا گیا ہے

درستگی کی جانچ کی بنیاد

آئی ویریفائی پاکستان کی ٹیم نے اس مواد کی جانچ پڑتال کی اور اسے غلط قرار دیا۔ اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے ویڈیو کی اصل شناخت کیلئے ریورس امیج سرچ کی گئی جس سے اس کے اصل سیاق و سباق کا پتا چلا۔

تحقیقات کے مطابق 17 مئی 2026 سے ایکس پر کئی صارفین یہ ویڈیو اس دعوے کے ساتھ پھیلا رہے تھے کہ اسرائیل میں ایک بڑی عمارت یا کمپاؤنڈ میں دھماکہ ہوا ہے جو امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران پیش آیا لیکن حقیقت میں یہ ویڈیو پرانا مواد ہے اور 2025 میں روس کے آئل ریفائنری پر ہونے والے حملے کی عکاسی کرتا ہے۔

اس دوران امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں شروع کی تھیں۔ پانچ ہفتوں سے زائد شدید کشیدگی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ابتدائی طور پر دو ہفتے کی جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا تھا تاہم تنازع اور اس کے معاشی اثرات اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکے۔

17 مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ امن مذاکرات میں تعطل کے باعث وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب وہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے بات چیت کر رہے تھے۔

اسی دوران ایران نے کہا کہ اس نے امریکا کی تازہ ترین تجویز کا جواب دے دیا ہے اور واشنگٹن کے ساتھ بات چیت پاکستان کے ذریعے ثالثی کے عمل سے جاری ہے۔

ابتدا کیسے ہوئی؟

17 مئی کو ایک ایکس صارف جس کی سابقہ پوسٹس اور پروفائل کے مطابق وہ حوثی حمایت رکھتا ہے نے ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دیواروں سے گھرا ہوا ایک بڑا دھماکہ دکھایا گیا تھا۔ اس نے کیپشن میں لکھا کہ حزب اللہ کا میزائل صہیونی میزائل فیکٹری پر گرا اور اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ اس پوسٹ کو 2 لاکھ 62 ہزار سے زائد ویوز ملے۔

اسی روز ایک ایران نواز اکاؤنٹ نے بھی یہی ویڈیو اسی نوعیت کے دعوے کے ساتھ شیئر کی جسے تقریباً 6 لاکھ 99 ہزار سے زائد افراد نے دیکھا۔

ایک اور صارف جس کے پروفائل سے وہ پی ٹی آئی سپورٹر معلوم ہوتا ہے نے ویڈیو کے ساتھ لکھا کہ یروشلم میں ایٹم بم جیسا دھماکہ ہوا ہے اور اسرائیل خود اس کی ذمہ داری قبول نہیں کر رہا۔ اس پوسٹ کو 2 لاکھ سے زائد ویوز ملے۔

ایک اور ایران حامی اکاؤنٹ نے بھی یہی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیاکہ اسرائیلی میزائل فیکٹری مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے جسے 39 ہزار سے زائد افراد نے دیکھا۔

اسی دن ایک بڑے میڈیا ادارے دنیا نیوز نے بھی انہی مناظر کی بنیاد پر خبر شائع کی جس میں کہا گیا کہ اسرائیلی دفاعی تنصیب میں دھماکے کے بعد شدید آگ بھڑک اٹھی اور ریسکیو گاڑیوں کی رسائی محدود کر دی گئی ہے۔

بعد ازاں یہ ویڈیو مختلف دیگر صارفین نے بھی مختلف دعوؤں کے ساتھ شیئر کی جن کے مجموعی طور پر ہزاروں ویوز سامنے آئے۔

دوسری جانب کچھ صارفین نے اسی ویڈیو کو مختلف زاویے سے پیش کیا۔ ایک اسرائیل نواز اکاؤنٹ نے دعویٰ کیا کہ امریکی میزائل نے ایرانی میزائل فیکٹری کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا ہے جسے 5 لاکھ 76 ہزار سے زائد افراد نے دیکھا جبکہ اسی طرح ایک بھارت نواز اکاؤنٹ نے بھی یہی ویڈیو اسی دعوے کے ساتھ شیئر کی جسے 70 ہزار سے زائد ویوز ملے۔

طریقہ کار

اس وائرل دعوے کی سچائی جانچنے کے لیے فیکٹ چیک شروع کیا گیا کیونکہ یہ معاملہ انتہائی وائرل تھا اور اسرائیل-امریکا-ایران تنازع پر عوامی دلچسپی بھی زیادہ تھی۔

ریورس امیج سرچ کے ذریعے ویڈیو کی جانچ کے دوران برطانوی میڈیا ادارے دی گارڈین کی 24 جنوری 2025 کی یوٹیوب ویڈیو سامنے آئی، جس کا عنوان تھا: People flee burning Russian oil refinery after reported drone attack. اس ویڈیو میں وہی مناظر شامل تھے جو وائرل کلپ میں دیکھے گئے۔

مزید تحقیق سے اسکائی نیوز آسٹریلیا کی اسی دن کی رپورٹ بھی سامنے آئی جس میں بتایا گیا تھا کہ یوکرین نے روس کے ریفائنری حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور دعویٰ کیا گیا تھا کہ 121 ڈرونز کے ذریعے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹس کے مطابق یہ حملہ روس کے ریازان ریجن میں ایک آئل ریفائنری اور پمپنگ اسٹیشن پر کیا گیا تھا تاہم ماسکو نے نقصان کے دعوؤں کی تردید کی تھی۔

فیکٹ چیک نتیجہ

یہ دعویٰ کہ وائرل ویڈیو اسرائیل کے اندر کسی کمپاؤنڈ میں ہونے والے دھماکے کو ظاہر کرتی ہے غلط ثابت ہوا ہے۔ حقیقت میں یہ کلپ روس کا ہے اور جنوری 2025 میں یوکرین کے ڈرون حملے کے بعد ایک آئل ریفائنری میں لگنے والی آگ کو دکھاتا ہے۔

شواہد اور حوالہ جات

January 24, 2025, The Guardian YouTube video:

January 25, 2025, Sky News Australia YouTube video:

Related Posts