کراچی :ایمپلائرز فیڈریشن آف پاکستان ( ای ایف پی ) اور پاکستان ریڈی میڈ گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ( پریگمیا ) نے پاکستان کے لیے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے حصول کے لیے مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کرتے ہوئے ’’ ای ایف پی ، پریگمیا جی ایس پی پلس کمیٹی ‘‘ تشکیل دی ہے تاکہ حکومت کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے بارے میں احساس دلاتے ہوئے جگایا جاسکے۔
ای ایف پی میں ہونے والے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا فوری طور پر اس مہم کو شروع کی جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ یورپی یونین ممالک پاکستان کو مزید10سالوں کے لیے یکم جنوری سے 2024 سے جی ایس پی پلس کا درجہ دیں۔
ای ایف پی کے جاری بیان میں اجلاس میں ہونے والے فیصلوں کے مطابق پریگمیا کے چیف کوآرڈینیٹر اعجاز کھوکھر کنوینر جبکہ ڈائریکٹر ای ایف پی اکنامک کونسل مسعود نقی شریک کنوینر ہوں گے۔
کمیٹی میں چیئرمین پریگمیا سہیل افضل،نائب صدرای ایف پی ذکی احمد خان، مہناز کلوڈی ڈائریکٹر ای ایف پی ٹاول سیکٹرسے نمائندگی ، لاہور سے تعلق رکھنے والے پریگمیا کے ایک ممبر، ای ایف پی اکنامک کونسل کے ڈائریکٹرز محمود ارشاد اور فرقان ریاض جبکہ ہوم ٹیکسٹائل سیکٹر سے بھی ایک نمائندہ کمیٹی میں شامل ہوگا نیز اس کمیٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے وقتاً فوقتاً دیگر افراد کو بھی مدعو کیا جائے گا۔
اجلاس میں ایڈوائزری بورڈ کے قیام کابھی اعلان کیا گیا جس کے مطابق سابق وفاقی سیکریٹری یونس ڈھاگا ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین ہوں گے جبکہ ای ایف پی کے صدر اسماعیل ستار اور سابق صدر ای ایف پی مجید عزیز اس کے ممبرز ہوں گے۔
اجلاس میں کمیٹی نے بعض اہم شرائط کی منظوری بھی دی جس میں7وفاقی وزارتوں کے ساتھ رابطے اور تبادلہ خیال کیا جائے گا جن میں اوور سیز پاکستانیز اینڈ ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ، فارن افیئرز،کامرس، ہیومن رائٹس، نارکوٹکس کنٹرول، کلائمیٹ چینج اور پلاننگ و ڈیولپمنٹ شامل ہیں نیز جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے لیے 27شرائط کا جائزہ لینے اور اس پر عمل درآمد کے سلسلے میں خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔
اسلام آباد میں یورپی یونین کے سفیرسمیت یورپی ممالک کے سفیروں کے ساتھ رابطے اور تبادلہ خیال کیا جائے گا۔برسلز میں یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹر کے دوروں کے ذریعے براہ راست وکالت اور لابنگ کی جائے گی۔سال 2021،2022 اور2023 کے دوران سال میں ایک بار کراچی، لاہور، فیصل آباد اور سیالکوٹ میں سیمینار کا اہتمام کیا جائے گا۔
جی ایس پی پلس پر تحقیقی دستاویزات تیار کی جائیں گی۔ ایک اور دہائی کے لیے یورپی یونین کے جی ایس پی پلس کا اسٹیٹس حاصل کرنے کے لیے مینوفیکچررز، کارکنوں اور حکومت میں احساس بیدار کیا جائے گا۔میڈیا کے ساتھ مستقل رابطے اور جی ایس پی پلس کو فروغ دینے کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کیا جائے گا۔
کمیٹی نے وزیر اعظم عمران خان اور متعلقہ وزارتوں کو جی ایس پی پلس کو فروغ دینے کے لیے مکمل تعاون کی پیش کش کی تاکہ یورپی یونین کو پاکستان مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوسکے اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافہ ممکن بنایا جاسکے۔