اسلام آباد میں احساس پروگرام کے مستحقین سے انگوٹھے لگواکر پیسے نہ دینے کا انکشاف

تازہ ترین

تازہ ترین

Ehsas Program management Abuse deserving people in islamabad

اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں احساس پروگرام کے تحت غریب لوگوں میں وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق فی کس 12ہزارکے حساب سے ملک کے مختلف حصوں سمیت شہر اقتدار میں بھی دیے جارہے ہیں لیکن اسلام آباد فردوس مارکیٹ ایف سکس ٹو میں واقع احساس مرکز میں انتہائی بدنظمی اور بدانتظامی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

کاؤنٹر پر بیٹھے کیشئرحسنین بزرگوں کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آرہا ہے ، لوگوں کو صبح سے بٹھا کر اور انگوٹھے لگوا کر کہتا ہے کہ پیسے کل ملیں گے ، بزرگ شہری جن کا تعلق سندھ سے ہے انہوں نے احساس پروگرام میں میسج کیا تھا اور ان کو پیسے وصول کرنے کا میسج آیا تھا۔

جب وہ صبح سویرے جو ٹائم حکومت کی طرف سے رکھا گیا تھا اسلام آباد فردوس مارکیٹ ایف سکس ٹو پہنچے تو اس وقت صبح کے نو بجے تھے ،بزرگ شہری کا کہنا ہے کہ اپنی باری کا انتظار کرتے کرتے چار گھنٹے گزر گئے جب میری باری آئی تو کیشئر حسنین نے مجھ سے انگوٹھے لگوا کر کہا کہ آپ کو پیسے کل ملیں گے۔

بزرگ کا کہنا ہے کہ میں نے کیشئر سے کہا کہ اگر پیسے کل ہی ملنے تھے تو پراسیس بھی کل کرواتے ، بزرگ شہری کا کہنا ہے کہ وہاں پر وفاقی پولیس بھی موجود تھی۔

انہوں نے بھی میری بات نہ سنی پولیس نے میرے ساتھ جو میرا بیٹا غلام رسول تھا ، پولیس نے اس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں اور کہا کہ تھانے میں لے جاکر بند کر دیا جائے گا۔

جب یہ بحث و تکرار ہو رہی تھی تو اس وقت میرا بیٹا غلام رسول اس تمام واقعہ کی ویڈیو بنا رہا تھا اس موقع پر رینجرز آرمی اور وفاقی پولیس کے اہلکار بھی موجود تھے لیکن کسی نے بھی میری بات پر کان نہیں دھرا ، میں بزرگ شہری ہونے کے ناطے وزیراعظم پاکستان عمران خان کو کو روتے ہوئے فریاد کرتا ہوں کہ ہم پیسے لینے آئے تھے پیسوں کے بدلے ہمیں دھکے دیے گئے۔

مزید پڑھیں:احساس ایمرجنسی کیش پروگرام میرٹ پر مستحقین کی امداد کر رہا ہے۔وزیرِ اعظم

جو لوگ بارہ ہزار میں سے کچھ پیسے کیشئر کو دیتے ہیں ان کو پیسے جلد مل جاتے ہیں یا جن کی سفارش ہوتی ہے ان کو پیسے جلد مل جاتے ہیں ،وزیراعظم عمران خان ہم غریبوں کے ساتھ کب تک اس طرح کے مذاق ہوتے رہیں گے میری یہ آواز آپ تک پہنچنی چاہیے ۔

انہوں میڈیا سے اپیل کی کہ میری آواز وزیراعظم تک پہنچانے میں میری مدد کی جائے، ان کا کہنا ہے کہ بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو ڈر کر واپس چلے جاتے ہیں یہاں پر لوگوں کو ذلیل کیا جارہا ہے اس پر کب اور کون ایکشن لے گا اب دیکھنا یہ ہے کہ ریاست مدینہ کی ریاست کیسی ہوتی ہے کہ جس کے والی کو خبر ہی نہ ہو کہ اس کی ریاست کے لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک ہو رہا ہے۔

Related Posts