حافظ آباد میں واقع ڈی پی او آفس کے باہر ایک بزرگ شہری طویل انتظار اور شدید گرمی کے باعث جان کی بازی ہار گیا۔
واقعہ نے عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کی سائلین سے متعلق پالیسی اور سہولیات پر بھی کئی سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
سوشل میڈیا سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق متوفی بزرگ شہری مجاہد محلہ حسن ٹاؤن کا رہائشی تھاجو کسی ذاتی شکایت کے ازالے کے لیے ڈی پی او حافظ آباد، عاطف نذیر، سے ملاقات کی غرض سے ان کے دفتر پہنچا۔
شہری نئے تعمیر شدہ فائیو اسٹار طرز کے آفس کے کھلے برآمدے میں صبح کے وقت بیٹھا رہا مگر پانچ گھنٹے گزرنے کے باوجود نہ تو ان کی ڈی پی او سے ملاقات ممکن ہو سکی اور نہ ہی کسی افسر یا عملے کی جانب سے انہیں مناسب توجہ دی گئی۔
عینی شاہدین کے مطابق شدید گرمی، حبس اور مناسب بیٹھنے یا ٹھنڈے ماحول کی عدم دستیابی کے باعث مجاہد کی حالت غیر ہوتی چلی گئی۔
بالآخر وہ وہیں برآمدے میں بے ہوش ہو گیا اور بعد ازاں جانبر نہ ہو سکا۔ اطلاع ملنے پر ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں تاہم وہ اس کی جان بچانے میں ناکام رہیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ حافظ آباد ڈی پی او آفس، جو حال ہی میں جدید طرز پر تعمیر کیا گیا ہے، میں سائلین کے لیے انتظار گاہ، سایہ دار جگہ، پینے کے پانی یا فوری طبی امداد جیسے بنیادی سہولیات کا فقدان پایا جاتا ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے، جن میں ضعیف العمر اور بیمار افراد بھی شامل ہوتے ہیں۔
واقعے کے بعد سوشل میڈیا اور مقامی شہری حلقوں میں ضلعی پولیس انتظامیہ پر تنقید کی جا رہی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر دفتر کے باہر مناسب سہولیات موجود ہوتیں یا بروقت بزرگ شہری کی داد رسی کی جاتی، تو اس کی جان بچائی جا سکتی تھی۔
ڈی پی او آفس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے واقعے پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔ عوامی مطالبہ ہے کہ واقعے کی مکمل انکوائری کی جائے اور سائلین کے لیے بہتر انتظامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں اس قسم کے افسوسناک سانحات سے بچا جا سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








