اسلام آباد: مارچ کے مہینے کے لیے ماہانہ اور سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی روشنی میں بجلی کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے جس سے صارفین کو خاطر خواہ ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
رپورٹس کے مطابق مارچ کے لیے ماہانہ ایندھن ایڈجسٹمنٹ میں فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 3 پیسے کمی متوقع ہے جبکہ سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت فی یونٹ 1 روپے سے زائد کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اس سلسلے میں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی نے نیپرا کو ماہانہ ایڈجسٹمنٹ کی درخواست جمع کروا دی ہے۔
مارچ میں ملک بھر میں 8اعشاریہ 4 ارب یونٹس بجلی پیدا ہوئی جس کی فی یونٹ پیداواری لاگت 9اعشاریہ 22 روپے رہی جبکہ ریفرنس لاگت 9اعشاریہ 25 روپے مقرر تھی۔
دوسری جانب مالی سال 2024-25 کے لیے تیسری سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی درخواست بھی دائر کر دی گئی ہے جس میں 47اعشاریہ 12 ارب روپے کے کیپیسٹی چارجز میں کمی کی درخواست کی گئی ہے۔
اس ایڈجسٹمنٹ کے تحت حکومت کی جانب سے 51اعشاریہ 49 ارب روپے کا ریلیف عوام کو منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔
نیپرا کی جانب سے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ پر 29 اپریل کو سماعت ہوگی، اور اگر منظوری ملتی ہے تو ملک بھر کے صارفین کو بجلی کے نرخوں میں واضح کمی کا فائدہ پہنچے گا۔
اس سے قبل بھی نیپرا نے اپریل تا جون 2025 کے لیے 1اعشاریہ 71 روپے فی یونٹ بجلی سستی کرنے کی منظوری دے دی تھی جس کا اطلاق کراچی سمیت پورے ملک پر ہوگا۔
یہ فیصلہ وفاقی حکومت کی باضابطہ درخواست پر کیا گیا جس کا مقصد بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر عوامی مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
یہ ریلیف تین ماہ کے بجلی بلوں پر نافذ ہوگا اور لاکھوں گھریلو اور تجارتی صارفین اس سے مستفید ہوں گے۔ تاہم، لائف لائن صارفین اس ریلیف کے اہل نہیں ہوں گے۔
نیپرا نے اس حوالے سے 4 اپریل 2025 کو سماعت کے بعد فیصلہ جاری کیا تھا۔
بجلی کی قیمتوں میں یہ کمی 58 ارب روپے کی مالی سہولت فراہم کرے گی، جو کہ حکومت کی توانائی کے شعبے کو مستحکم کرنے اور پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے اثرات کو کم کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 10 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا تھا، جس کے بعد یہ بجلی نرخوں میں کمی کا فیصلہ عوامی مالی دباؤ کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








