ملک بھر میں بجلی کی قیمت میں ایک بار پھر اضافے کا خدشہ ہے۔ سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیپرا میں نئی درخواست دائر کردی۔
تفصیلات کے مطابق بجلی کے صارفین کو فی یونٹ مزید 26 پیسے کے اضافے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ سی پی پی اے نے نے مارچ کے فیول کاسٹ ایڈجسٹمنٹ کے تحت نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو درخواست جمع کروا دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ نیپرا اس درخواست پر 28 اپریل کو سماعت کرے گی جبکہ سی پی پی اے کے مطابق مارچ کے دوران مجموعی طور پر 8.939 ارب یونٹس بجلی پیدا کی گئی جبکہ 8.644 ارب یونٹس ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو فراہم کیے گئے۔
واضح رہے کہ مارچ کے لیے ریفرنس لاگت 7.99 روپے فی یونٹ مقرر کی گئی تھی۔اعداد و شمار کے مطابق بجلی کی پیداوار مختلف ذرائع سے حاصل کی گئی، جن میں 23.55 فیصد پن بجلی، 16.76 فیصد مقامی کوئلہ، 13.80 فیصد درآمدی کوئلہ، اور 5.64 فیصد درآمدی ایل این جی شامل ہے۔
اسی طرح 1.02 فیصد بجلی فرنس آئل سے، 11.34 فیصد مقامی گیس سے پیدا ہوئی، جبکہ جوہری توانائی کا حصہ مارچ میں 21.95 فیصد رہا۔ مزید برآں، ہوا سے 3.46 فیصد اور شمسی توانائی سے 1.18 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔درخواست کے مطابق مجوزہ اضافہ کے الیکٹرک پر بھی لاگو ہوگا، جس سے پہلے ہی مہنگائی سے متاثرہ صارفین پر مزید مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








