عالمی معیار کی فضائی کمپنی بنانے کے دعوے کرنے والی بھارتی ایئر لائن “ایئر انڈیا” سنگین انتظامی اور تکنیکی بحران کی زد میں آ چکی ہے جس نے نہ صرف بھارت کی فضائی ساکھ پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے بلکہ بھارتی ایوی ایشن انڈسٹری کی نااہلی کو بھی پوری دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
اے این آئی اور اکنامک ٹائمز کی رپورٹس کے مطابق ایئر انڈیا نے حالیہ دنوں میں متعدد اندرون اور بیرونِ ملک پروازیں تکنیکی خرابیوں اور مرمتی مسائل کے باعث منسوخ کر دی ہیں۔ متاثرہ پروازوں میں دبئی سے چنئی، دہلی سے میلبورن، دبئی سے حیدرآباد، اور دیگر بڑے شہروں سے روانہ ہونے والی پروازیں شامل ہیں۔
بھارتی حکومت اور اس کے زیرِ اثر میڈیا جس ایئر انڈیا کو ایک “گلوبل فلیگ کیریئر” کے طور پر پیش کرنے میں مصروف تھے، اسی ایئر لائن کے اندر موجود انتظامی بدحالی اور ناقص حکمت عملی نے پوری دنیا کے سامنے بھارت کی صلاحیتوں پر سوال کھڑے کر دیے ہیں۔
حالیہ بوئنگ 787 طیارے کے حادثے اور 7 طیاروں کو فوری طور پر گراؤنڈ کرنے کے فیصلے نے اس بات پر مہر ثبت کر دی ہے کہ بھارت کی فضائی کمپنی عالمی میدان میں سنبھلنے کے بجائے مزید بکھر رہی ہے۔
پاک-بھارت کشیدگی کے بعد جب بیشتر ایئر لائنز نے فضائی راستوں میں ہوشیاری سے تبدیلی کر کے مسافروں کو ریلیف دیا، ایئر انڈیا کی ناقص پلاننگ اور تاخیر سے فیصلے کرنے کی روایت نے صرف مسافروں کو نہیں، بلکہ بھارت کی فضائی قابلیت پر بھی سوالات اٹھا دیے۔
مسافروں کو پرواز کی منسوخی کی اطلاع محض چند گھنٹے قبل دی گئی، جس کے باعث انہیں نہ صرف پریشانی بلکہ مالی نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ عوامی سطح پر بڑھتی ہوئی شکایات کے باوجود ایئر انڈیا کی خاموشی اور سست رد عمل اس کی کارکردگی پر عدم اعتماد کی نشانی بن چکی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایئر انڈیا واقعی ایک عالمی فضائی کمپنی بننے کی خواہاں ہے تو اسے سب سے پہلے اپنے اندرونی نظام کی اصلاح کرنا ہوگی۔ موجودہ حالات میں نہ صرف مسافروں کا اعتماد مجروح ہو رہا ہے بلکہ بھارت کے خود ساختہ ترقی کے بیانیے کو بھی شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








