پاکستان کیساتھ مشترکہ دشمنی، افغان طالبان اور بھارت ایک دوسرے کے قریب ہونے لگے!

تازہ ترین

تازہ ترین

فوٹو باختر نیوز

ایسے موقع پر جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تناؤ پایا جاتا ہے، افغانستان کی طالبان حکومت نے اشرف غنی انتظامیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھانا شروع کر دی ہیں۔

حال ہی میں طالبان اور ہندوستان نے ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کو بہتر کے لیے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ طالبان حکومت نے ممبئی میں افغان قونصلیٹ جنرل میں سیکنڈ سکریٹری کی تقرری کا اعلان کیا ہے۔ افغانستان کی باختر نیوز ایجنسی نے یہ اطلاع دی ہے۔

ایجنسی نے کابل میں وزارت خارجہ کے حوالے سے بتایا کہ ڈاکٹر اکرام الدین کامل کو ممبئی میں واقع قونصل خانہ میں سیکنڈ سکریٹری طورپر مقرر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکرام الدین کامل اس وقت ممبئی میں ہیں، جہاں وہ امارت اسلامیہ (طالبان حکومت) کی نمائندگی کرنے والے سفارت کار کے طور پر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

اس تقرری کو طالبان کی جانب سے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات کو مضبوط بنانے اور بیرون ملک اپنی موجودگی بڑھانے کی کوششوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق کامل نے بین الاقوامی قانون میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس تقرری سے پہلے وہ وزارت خارجہ میں سیکورٹی تعاون اور سرحدی امور کے محکمہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے طور پر کام کر چکے ہیں۔ اکرام کامل کی تقرری کے بعد ہندوستان اور افغانستان کے درمیان تعطل کا شکار قونصلر خدمات دوبارہ شروع ہونے کی امید ہے۔

انڈین میڈیا آؤٹ لیٹ 18نیوز کے مطابق گزشتہ ہفتے کے آخر میں ایک میڈیا رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہندوستانی حکومت طالبان کی زیر قیادت حکومت کی جانب سے ممبئی میں افغانستان کے قونصلیٹ جنرل کی درخواست کو قبول کرنے پر غور کر رہی ہے۔

سنڈے گارڈین نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ طالبان نے اکرام الدین کامل کی تقرری کی درخواست کی تھی۔ اگر ہندوستان اس عہدہ کی توثیق کرتا ہے، تو اگلا مرحلہ مکمل رسمی طورپر رضامندی کا اظہار ہوگا۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے ہندوستان کی وزارت خارجہ کے ڈپٹی ڈائریکٹر جے پی سنگھ نے کابل میں طالبان وزیردفاع ملا یعقوب، وزیر خارجہ ملامتقی اور دیگر رہنماؤں سے وفد کے ہمراہ ملاقاتیں کی تھیں۔ ان ملاقاتوں کے دوران طالبان نے سفارتی تعلقات کی  بحالی سے اتفاق کیا تھا۔

Related Posts