امریکا کے بدنام زمانہ اپسٹین فائلز اسکینڈل میں غلاف کعبہ کے ٹکڑے کا ذکر بھی آگیا ہے۔
سامنے آنے والی فائلز میں ایک ای میل مراسلت بھی شامل ہے جس میں کعبہ مقدسہ کے غلاف (سیاہ اور سونے کے کڑھائی والے کپڑے) کے ٹکڑوں کی 2017 میں امریکہ بھیجنے کی بات کی گئی ہے۔
ای میلز کے مطابق جن کی تاریخ فروری اور مارچ 2017 ہے، یہ ترسیل متحدہ عرب امارات کی کاروباری خاتون عزیزہ الأحمدی نے عبد اللہ المعاری کے نام سے شناخت ہونے والے ایک شخص کے ساتھ تعاون کر کے منظم کی۔
مراسلت میں تین اشیاء کے منتقلی کے انتظامات بیان کیے گئے، جنہیں غلاف کعبہ سے منسلک کہا گیا، جسے خانہ کعبہ کی وجہ سے مسلمانوں میں تقدس حاصل ہے۔
پیغامات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اشیاء سعودی عرب سے فلوریڈا، امریکہ، برٹش ایئر ویز کے ذریعے فضائی مال کے طور پر بھیجی گئیں اور اس دوران انوائس، کسٹمز دستاویزات اور ترسیل کی تفصیلات پر تبادلہ خیال ہوا۔
تینوں ٹکڑوں میں شامل بتایا گیا:
-
ایک جو کعبہ کے اندر سے آیا تھا
-
ایک پرانے استعمال شدہ بیرونی غلاف سے
-
تیسرا، اسی مواد سے بنایا گیا مگر مبینہ طور پر کبھی استعمال نہ ہوا تھا۔
غیر استعمال شدہ ٹکڑے کو ای میل میں “آرٹ ورک” کے زمرے میں شامل کر کے شپنگ کے لیے بیان کیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق یہ ترسیل مارچ 2017 میں اپسٹین کے رہائشی مقام پر پہنچائی گئی، اس وقت وہ پہلے ہی جیل کی سزا مکمل کر چکے تھے اور بطور سیکس آفنڈر رجسٹرڈ تھے۔
اب تک سعودی عرب یا یو اے ای حکام کی جانب سے اس ترسیل کی تصدیق یا قانونی حیثیت کے بارے میں کوئی سرکاری بیان نہیں آیا۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی دستاویزات میں دی گئی معلومات بذاتِ خود کسی غلطی یا قانون شکنی کا ثبوت نہیں، اور ان کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








