ایپسٹین فائلز نے دنیا ہلا دی! طاقتور اور متنازعہ برطانوی سیاسی رہنما پیٹر مینڈیلسن مستعفی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

برطانیہ کی لیبر پارٹی کے ایک سینئر اور متنازعہ رہنما پیٹر مینڈیلسن نے جیفری ایپسٹین سے اپنے روابط سامنے آنے کے بعد پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ اس وقت کیا گیا جب امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ نئی دستاویزات میں ایپسٹین سے متعلق ان کے روابط کی مزید تفصیلات منظرِ عام پر آئیں۔

دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق لارڈ پیٹر مینڈیلسن جو گزشتہ تین دہائیوں کے دوران برطانوی سیاست کی بااثر ترین شخصیات میں شمار ہوتے رہے ہیں نے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ وہ لیبر پارٹی کو مزید شرمندگی سے بچانا چاہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والے انکشافات نے انہیں ایپسٹین کے گرد پھیلے قابلِ فہم عوامی غم و غصے میں مزید الجھا دیا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ستمبر 2025 میں پیٹر مینڈیلسن کو امریکہ میں برطانیہ کے سفیر کے عہدے سے برطرف کر دیا تھا جب ایپسٹین سے ان کے پرانے تعلقات سے متعلق ابتدائی معلومات سامنے آئی تھیں۔

اب امریکی حکام کی جانب سے جاری نئی دستاویزات میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ جیفری ایپسٹین نے مینڈیلسن کو مالی فوائد دیئے جن میں مبینہ طور پر 25 ہزار ڈالر کی ادائیگیاں بھی شامل ہیں جبکہ ایک خفیہ سرکاری دستاویز ایپسٹین کو فراہم کیے جانے کا الزام بھی لگایا گیا ہے۔

پیٹر مینڈیلسن نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں کسی مالی ادائیگی کی کوئی یاد نہیں اور یہ الزامات بے بنیاد ہیں جن کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں۔

لیبر پارٹی کے جنرل سیکریٹری کو لکھے گئے اپنے خط میں مینڈیلسن نے کہا کہ میں اس ہفتے کے آخر میں جیفری ایپسٹین کے معاملے پر سامنے آنے والے قابلِ فہم عوامی غم و غصے میں مزید الجھ گیا ہوں جس پر مجھے افسوس ہے اور میں معذرت خواہ ہوں۔

وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پیٹر مینڈیلسن کو ہاؤس آف لارڈز کی رکنیت سے بھی ہٹا دیا جانا چاہیے جبکہ ان کے ایپسٹین سے روابط کی باضابطہ تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مینڈیلسن کو تاحیات حاصل لارڈ کے اعزاز سے بھی دستبردار ہونا چاہیے۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے بھی مکمل اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پولیس ممکنہ بدعنوانی کے الزامات کا جائزہ لے رہی ہے۔

پیٹر مینڈیلسن، جنہیں برطانوی سیاست میں پرنس آف ڈارکنس کے لقب سے بھی جانا جاتا ہے 1990 کی دہائی میں سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ مل کر نیو لیبر منصوبے کے بانیوں میں شامل تھے تاہم جیفری ایپسٹین کے ساتھ ان کے روابط کے باعث وہ ماضی میں بھی کئی بار شدید تنقید کی زد میں آ چکے ہیں۔

واضح رہے کہ جیفری ایپسٹین ایک سزا یافتہ جنسی مجرم تھا جس نے 2019 میں امریکی جیل میں خودکشی کر لی تھی۔ حالیہ دستاویزات کی ریلیز نے برطانیہ میں ایک نیا سیاسی بحران کھڑا کر دیا ہے جہاں ایپسٹین فائلوں کے باعث شاہی خاندان کے بعض افراد، خصوصاً پرنس اینڈریو اور دیگر بااثر شخصیات بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

پیٹر مینڈیلسن نے اپنے بیان میں ایپسٹین کی جانب سے متاثر ہونے والی خواتین اور لڑکیوں سے بھی معذرت کی اور کہا کہ ان کی آواز بہت دیر سے سنی گئی۔

Related Posts