برفباری بھی قدم نہ روک سکی! تعلیم کے شوق میں بچے کا ناقابلِ یقین سفر؛ ویڈیو وائرل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

سخت موسم اور محدود سہولیات کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کے عزم کی ایک دل چھو لینے والی کہانی سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئی۔ کرغزستان میں ایک کم عمر طالب علم کی میٹر سے زیادہ گہری برف میں پیدل اسکول جاتے ہوئے ویڈیو وائرل ہوئی جس نے نہ صرف عوام بلکہ ملک کے صدر کو بھی متاثر کر دیا۔

ویڈیو سامنے آنے کے بعد صدر نے بچے کی تعلیم سے وابستگی کو سراہتے ہوئے اسے نئے سال کی صدارتی تقریب میں مدعو کیا اور ذاتی طور پر لیپ ٹاپ، فٹ بال اور اپنا موبائل فون بطور تحفہ دیا۔

 

کرغزستان کے صدر سے ملاقات کے بعد سنو بوائے کے نام سے مشہور بچے کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، جن میں وہ صدرِ مملکت سے فٹ بال سمیت دیگر تحائف وصول کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

Sadyr Japarov met with a student who made his way to school through meter-high  snowdrifts » News about Kyrgyzstan, tourism, attractions, Kyrgyz cuisine,  history, traditions, and customs

 

Children walked to school through a meter of snow – Sadyr Japarov presented  them with gifts » News about Kyrgyzstan, tourism, attractions, Kyrgyz  cuisine, history, traditions, and customs

اسی طرح کی ایک اور متاثر کن مثال چین کے دیہی علاقے سے تعلق رکھنے والے چوتھی جماعت کے طالب علم وانگ فومان کی ہے جو سردی کے باعث قومی علامت بن گیا۔ منفی 9 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجہ حرارت میں وانگ فومان روزانہ تقریباً پانچ کلومیٹر کا فاصلہ پیدل طے کر کے اسکول پہنچا۔ اس دن اس نے صرف ہلکی جیکٹ پہن رکھی تھی، نہ ٹوپی تھی اور نہ ہی سردی سے بچاؤ کا کوئی خاص انتظام۔

جب وہ امتحان دینے اسکول پہنچا تو اس کے بال اور بھنویں برف سے سفید ہوچکی تھیں جبکہ چہرہ سردی سے سرخ تھا مگر اس کے چہرے پر مسکراہٹ برقرار رہی۔ حیران کن طور پر اس نے امتحان میں 100 میں سے 99 نمبر حاصل کیے۔

وانگ فومان کے گھر اور اسکول میں ہیٹنگ کی سہولت موجود نہیں تھی۔ طلبہ کوٹ پہن کر کلاس میں بیٹھتے اور ان کی سانسیں ہوا میں دکھائی دیتی تھیں۔ اس کے باوجود وانگ نے کبھی شکایت نہیں کی کیونکہ اس کے نزدیک تعلیم غربت سے نکلنے کا واحد راستہ تھی۔

جب اس کے استاد نے اس کی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کی تو یہ تصویر دیکھتے ہی دیکھتے چین سمیت دنیا بھر میں وائرل ہو گئی۔ لوگوں نے دل کھول کر مدد کی اور تین ملین یوان (تقریباً چار لاکھ پچاس ہزار ڈالر) سے زائد عطیات جمع ہو گئے۔ اس امداد سے اسکول میں ہیٹنگ کا انتظام کیا گیا اور بچوں کو گرم کپڑے اور تعلیمی سامان فراہم کیا گیا۔

بعد ازاں جب وانگ فومان کو بیجنگ مدعو کیا گیا تو صحافیوں نے اس سے پوچھا کہ اسے سب سے زیادہ کس چیز نے حیران کیا؟ اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اس کے گاؤں میں وہ کوئلہ جلا کر اور جیکٹ پہن کر سوتے ہیں، جبکہ شہر میں گھر اتنے گرم ہیں کہ وہ ایک قمیض میں آرام سے چل سکتا ہے۔

یہ کہانیاں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ تعلیم کی خواہش اگر مضبوط ہو تو سرد موسم، برف اور مشکلات بھی راستہ نہیں روک سکتیں۔

Related Posts