فلسطین میں نہ صرف انسان اسرائیل اور قبضہ گیر یہودی آباد کاروں کے ظلم و ستم سے محفوظ نہیں ہیں بلکہ فلسطینیوں کے درخت اور کھیت کھلیان بھی ان کی دستبرد سے غیر محفوظ ہیں اور وہ فلسطینییوں کے ساتھ ان کی املاک، کھیت اور درختوں کو بھی اپنی جنونیت، نفرت اور ظلم کا نشانہ بناتے ہیں۔
یہودی آبادکاروں کے ایک جتھے نے مغربی کنارے کے شہر نابلس کے جنوبی قصبے اللبان الشرقیۃ پر دھاوا بول کر زیتون کے درجنوں درخت اکھاڑ ڈالے۔
غرب اردن کے شمالی ریجن میں یہودی آبادکاری پر نظر رکھنے والے غسان دگلس کے مطابق یہودی آبادکاروں نے اللبان الشرقیہ میں فلسطینی اراضی پر کاشت زیتون کے 65 درختوں کو تباہ کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں:
اسرائیل اپنے انجام کی طرف بڑھ رہا ہے، سابق موساد اہلکار
مسٹر دگلس نے بتایا زیتون کے 25 پودے فلسطینی شہری یعقوب اویس جبکہ 18 اکرم اویس نے لگائے تھے۔ 22 پودوں کی ملکیت رجا اویس نامی شہری کی بتائی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ گذشتہ برس شدت پسند یہودی آبادکاروں نے اویس خاندان کی زمین پر دھاوا بول کر متعدد زیتون کے درخت اکھاڑ ڈالے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








