آج کے تیز رفتار دور میں کیریئر کی جنگ اور عالمی رابطوں کے باوجود انسانوں کے درمیان جذباتی فاصلہ بڑھ گیا ہے۔ ہم ٹیکنالوجی کے ذریعے جڑے ضرور ہیں لیکن اپنے تعلقات میں اکثر اکیلے محسوس کرتے ہیں۔ کئی لوگ سوچتے ہیں میں بات کرنا چاہتا ہوں لیکن کیا کوئی سننے والا ہے؟
پیشہ ورانہ کامیابی کے تعاقب میں ہم اپنی ذہنی صحت، تعلقات اور مجموعی خوشی کا نقصان کر رہے ہیں۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق 76 فیصد ملازمین کام کی جگہ پر ذہنی تھکن (burnout) محسوس کرتے ہیں اور 83 فیصد کام کے دباؤ سے متاثر ہیں۔ طویل اوقاتِ کار، کام کے مطالبات اور کامیابی کا دباؤ ہمیں الگ تھلگ کر رہا ہے اور زندگی کو بامعنی تعلقات کی بجائے صرف لین دین کی صورت دے رہا ہے۔
یہ الگ تھلگ پن تنہائی کی بڑھتی ہوئی شرح میں ظاہر ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر چار میں سے ایک شخص خود کو تنہا محسوس کرتا ہے جبکہ بڑے شہروں میں یہ شرح اور بھی زیادہ ہے۔ مثال کے طور پر لندن میں 55 فیصد لوگ تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں۔بعض پیشے جیسے کہ صحافت، صحت، کارپوریٹ ملازمتیں اور ریموٹ ورک زیادہ دباؤ اور الگ تھلگ ماحول کی وجہ سے اس احساس کو بڑھا دیتے ہیں۔
ذہنی صحت پر اس کے اثرات بھی سنگین ہیں۔ دنیا بھر میں تقریباً 5 فیصد بالغ افراد ڈپریشن کا شکار ہیں جس میں خواتین 50 فیصد زیادہ متاثر ہوتی ہیں۔ صحت، تعلیم اور قانون جیسے شعبے سب سے زیادہ ڈپریشن کی شرح رکھتے ہیں کیونکہ یہ جذباتی تھکن اور سخت دباؤ والے شعبے ہیں۔ اس کا اثر ذاتی تعلقات پر بھی پڑتا ہے اور طلاق کی 40 سے 50 فیصد وجوہات کام کے دباؤ سے جڑی ہیں۔
یہ ذہنی دباؤ کبھی کبھار سب سے افسوسناک نتیجہ یعنی خودکشی تک لے جاتا ہے۔یہ بڑھتی ہوئی ذہنی صحت کا بحران فوری توجہ کا تقاضا کرتا ہے۔ ہم اپنی خوشی، تعلقات اور ذہنی سکون کو پیشہ ورانہ کامیابی کے لیے قربان کر رہے ہیں۔ اب وقت ہے کہ رکیں، غور کریں اور اپنی زندگی میں توازن قائم کرنے کو ترجیح دیں۔ معنادار تعلقات، اہل خانہ کے لیے وقت اور خود کی دیکھ بھال کو ہمیشہ کامیابی کے تعاقب پر فوقیت دینی چاہیے۔
آخری سوال یہ ہے؟ کیا ہم اپنے اور دوسروں کے جذبات سننے کے لیے تیار ہیں قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے؟
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








