سابق آئی جی سندھ نے راؤ انوار کو 5 کروڑ روپے ہتک عزت کا نوٹس بھیج دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

سابق آئی جی سندھ نے راؤ انوار کو 5 کروڑ روپے ہتک عزت کا نوٹس بھیج دیا
سابق آئی جی سندھ نے راؤ انوار کو 5 کروڑ روپے ہتک عزت کا نوٹس بھیج دیا

کراچی: سابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس سندھ اللہ ڈنو خواجہ نے 18 جون کو ایک نجی ٹی وی شو میں ان کے خلاف ہتک آمیز الفاظ استعمال کرنے پر ریٹائرڈ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس راؤ انوار کو 50 ملین روپے کا ہتک عزت کا نوٹس بھیجا ہے۔

اللہ ڈنو خواجہ نے جمعرات کو تصدیق کی کہ انہوں نے راؤ انوار کو ان کے ہتک آمیز انٹرویو پر قانونی نوٹس بھیجا تھا۔

نوٹس میں اللہ ڈنو خواجہ نے راؤ انوار سے کہا کہ وہ قانونی نوٹس موصول ہونے کے 14 دن کے اندر معافی مانگیں اور 50 ملین روپے ہرجانے کی رقم ادا کریں، ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کے خلاف عدالت میں قانونی کارروائی شروع کی جائے گی۔

انٹرویو میں راؤ انوار نے سابق آئی جی کو ”منافق” قرار دیا تھا اور ان پر دیگر چیزوں کے علاوہ ”مجرموں کو مارنے اور ان کی لاشیں پھینکنے” کے احکامات جاری کرنے کا الزام لگایا تھا۔

راؤ انوار کے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے، سابق آئی جی نے سابق ایس ایس پی کے دعوؤں کو ”جھوٹا اور بے بنیاد” قرار دیا۔

اللہ ڈنو خواجہ نے اس الزام کی بھی تردید کی کہ مرحوم نقیب اللہ محسود کے والد جوکہ ایک وزیرستانی باشندہ تھا کو انہوں نے کراچی طلب کیا تھا۔

سابق آئی جی نے دعویٰ کیا کہ شکایت کنندہ کے والد اور گواہوں کو راؤ انوار اور ان کی ٹیم کی جانب سے ’سنگین جان کو لاحق خطرات‘ کی وجہ سے سیکیورٹی فراہم کی گئی۔

اللہ ڈنو خواجہ نے کہا کہ راؤ انوار کو 2017 میں معطل کیا گیا تھا کیونکہ انہوں نے سندھ میں قائد حزب اختلاف کے گھر پر چھاپہ مارا تھا، جو ان کے بقول ”ان کے دائرہ اختیار میں بھی نہیں تھا”۔

سابق آئی جی نے اپنے نوٹس میں وضاحت کی کہ راؤ انوار کو چیف سیکریٹری سندھ نے اس وقت کے آئی جی پی سندھ کی سفارش کے بغیر بحال کیا اور ان کی خواہش کے مطابق انہیں ایس ایس پی ملیر تعینات کیا۔

مزید پڑھیں:تھانے میں با اثر شخص کا لیڈی ڈاکٹر پر تشدد، ویڈیو وائرل

اللہ ڈنو خواجہ نے اس الزام کی بھی تردید کی کہ انہوں نے چند سال قبل کراچی میں تحریک لبیک (ٹی ایل پی) کے جلوس کے خلاف طاقت کے استعمال کا حکم دیا تھا۔

Related Posts