عمر شاہد حامد کی انڈرورلڈ، دہشت گردی کے نیٹ ورکس ، کرپٹ سیاستدانوں اور عسکریت پسندوں سے متعلق تحاریر نے ملک بھر کے قارئین کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے، عمر شاہد حامد پچھلے 17 سالوں سے پولیس فورس کیلئے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
انہوں نے 2013 میں پولیس میں اپنے تجربات کو تحریری شکل دینے کیلئے اپنا پہلا ناول ’’ قیدی ‘‘ لکھا جو ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوا ،ان کا دوسرا ناول امریکی رپورٹر ڈینیئل پرل کے اغواء پر مبنی تھا جنہیں 2002 میں کراچی میں بے دردی سے قتل کیا گیا تھا۔عمر شاہد حامدنے جنوری 2017 میں اپنی تیسری کتاب ’دی پارٹی ورکر‘ جاری کی جبکہ ان کا چوتھا ناول دی فکس میچ فکسنگ ہے۔
ایم ایم نیوز نے عمر شاہد حامد سے ان کی تحاریر اور حقیقی زندگی کے تجربات کے حوالے سے گفتگو کا اہتمام کیا جو نذر قارئین ہے۔
ایم ایم نیوز: کون یا کس نے آپ کو ناول نگار بننے کی ترغیب دی؟ عمر شاہد حامد: مجھے شروع سے ہی پڑھنے کا شوق تھاجس کی وجہ سے لکھنے کا شوق پیدا ہوا، آج میں 13 سال سے لکھ رہا ہوں، میرےناولز پولیس افسر کی حیثیت سے میری صلاحیتوں کو ابھارتے ہیں لیکن بعض اوقات تخیلات بھی شامل ہوتے ہیں۔
ایم ایم نیوز: لکھنے کے حوالے سے آپ کو کس نے آگے بڑھنے کامشورہ دیا؟ عمر شاہد حامد: میری اہلیہ نے میری سپورٹ کی، بہت سے لکھاری محض اپنے ذاتی خول میں قید رہتے ہیں اور ایک انجانے خوف کی وجہ سے اپنی تحاریر کو دنیا کے سامنے پیش نہیں کرتے لیکن میری اہلیہ نے مجھے کہا ! جسٹ ڈو اٹ،اور اس سے مجھے ترغیب ملی۔
ایم ایم نیوز: آپ کے پڑھنے والے تین پسندیدہ ناول کونسے ہیں؟ عمر شاہد حامد: گاڈ فادر ،ٹنکر ٹیلرسولجراسپائے اور سائلنس آف دی لمبز۔
ایم ایم نیوز: آپ اکثر کہتے ہیں کہ آپکی تحاریرحقیقی زندگی کے تجربات پر مبنی ہوتی ہیں ، کیا کبھی کسی نے اپنے آپ کو کسی کردار میں پہچانا ہے؟ عمر شاہد حامد: مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی میرے ناولوں میں خود کو اس طرح پہچان لے گا کیونکہ میرے تمام کردار عام طور پر کئی کرداروں سے ملتے ہیں۔ میں ایک سے زیادہ لوگوں سے کردار کی خصوصیات لیتا ہوں اور ان کو جوڑتا ہوں جس کی وجہ سے لوگوں کی شناخت نہیں ہوتی۔
ایم ایم نیوز: کیا آپ اپنے ناولوں میں کوئی خاص گتھیاں سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں؟ عمر شاہد حامد: میرے پاس کہانی کے متعدد نظریات ہوتے ہیں،میرے آخری تین ناولز بہت سنسنی خیز تھے لہٰذا میں مستقبل میں کچھ مختلف کرنا چاہوں گا لیکن میرے ناولوں کا کوئی خاص مقصد نہیں ہے،یہ لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ ان ناولز کو کس طرح محسوس کرتے ہیں۔
ایم ایم نیوز: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ کاغذ پر لکھنے سے حقیقی زندگی میں بھی بدلاؤ آتا ہے ؟ عمر شاہد حامد : جی ہاں!۔ لکھنا قدرتی طور پر آپ کو زیادہ نفیس بناتا ہے۔
ایم ایم نیوز: آپ کے اپنے ہی ناول میں سے ایک پسندیدہ جملہ کیا ہے؟ عمر شاہد حامد: میرے ناول قیدی کا ایک جملہ ہے کہ! غریب علاقے میں100 لوگ بھی مرجائیں تو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ایک متمول پڑوسی کی بلی بھی کھو جائے تو لوگ آسمان سر پر اٹھالیتے ہیں۔
ایم ایم نیوز:آپ کے ناولز کراچی کے لوگوں سے متعلق ہیں لیکن یہاں انگریزی کم لوگ پڑھتے ہیں، کیا آپ نے کبھی اپنے ناولز کے ترجمے پر غور کیا ہے؟ عمر شاہد حامد: اگر کوئی ان کا ترجمہ کرنا چاہتا ہے تو میرے لئے یہ خوشی کی بات ہوگی۔
ایم ایم نیوز: کیا ہم جلد ہی کسی نئی اشاعت کی توقع کرسکتے ہیں؟ عمر شاہد حامد: ہاں ، جی ہاں !میں نے ابھی ایک نئی کتاب ختم کی ہے۔
ایم ایم نیوز: آپ کا آخری ناول کرکٹ پر مرکوز ہے۔ ہم اس ناول سے کیا توقع کرسکتے ہیں؟ عمر شاہد حامد: آپ اس ناول سے سنسنی کی توقع کر سکتے ہیں، ابھی بس اتنا ہی کہہ سکتا ہوں۔
ایم ایم نیوز: کیا ہم آپ کے کسی بھی ناول کو فلموں میں بدلتے ہوئے دیکھنے کی امید کر سکتے ہیں؟ عمر شاہد حامد: مجھے لگتا ہے کہ آپ بہت جلد کچھ دیکھیں گے۔ میرے دو ناول ’’ قیدی ‘‘ اور ’’ پارٹی ورکر ‘‘ کو پروڈیوسرز نے پسندکیا ہے لہٰذا ان دو ناولز پر فلم یا سیریز بن سکتی ہے۔