کراچی ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کا شدید شکار ہوتا جارہا ہے۔ سڑکوں کی کشادگی اور فلائی اوورز کی تعمیر بھی ٹریفک کے مسائل کو کم نہیں کرپا رہے۔ ٹریفک پولیس نے ٹریفک جام پر قابو پانے کی بجائے اہم شاپنگ سینٹروں کے باہر سے موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں اٹھاکر اپنی جیبیں بھرنے پر توجہ مرکوز کررکھی ہے۔
ٹریفک بحالی کے نام پر بھتہ وصولی کے لیے ٹریفک اہلکار شاپنگ سینٹرز کے باہر سے موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں اٹھاکر لے جاتے ہیں، شاپنگ کرکے سینٹر سے باہر آنے والے شہری اپنی موٹر سائیکلیں یا گاڑیاں نہ پا کر انتہائی پریشان ہوجاتے ہیں۔ جس پر وہ معلومات حاصل کرتے ہیں اور متعلقہ ٹریفک سیکشن پہنچتے ہیں۔ تو وہاں ان سے فی بائیک 450 روپے سے 300 روپے تک وصول کیے جاتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں موٹر گاڑیوں کی تعداد تقریباً 60 لاکھ ہے جن میں ایک چوتھائی تعداد صرف کراچی میں چلتی ہیں، جبکہ پارکنگ کا انتظام نہ ہونے کے برابر ہے جس سے ٹریفک کے مسائل دن بدن بڑھتے جارہے ہیں۔
ٹریفک سیکشن پر جرمانے کے نام پر شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کیے جاتے ہیں، روزانہ کی بنیاد پر حاصل ہونے والے آمدنی کا بڑا حصہ مبینہ طور پر اعلیٰ افسران تک پہنچتا ہے۔
حکومت سندھ کے نوٹیفکیشن نمبر پی او ایل۔ ایچ ڈی5/8/2012مجریہ28مئی2012کے تحت نجی ایجنسی کو دیئے گئے کراچی ٹریفک پولیس کے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جارہا ہے۔ نجی ایجنسی براہ راست ڈی آئی جی ٹریفک کو جواب دہ ہے۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








