کراچی میں بھتہ خوری کے بڑھتے واقعات پر کاٹی کے صدر اکرام راجپوت کا اظہار تشویش

تازہ ترین

تازہ ترین

Extortion Threats in Karachi Deeply Concerning, Mohammad Ikram Rajput
ONLINE

کراچی: کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت نے کراچی میں بھتہ خوری اور تاجروں کو موصول ہونے والی دھمکیوں کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سندھ اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس سنگین مسئلے سے نمٹنے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے صنعتکار کاروبار کے مسائل کے بعد اب ان واقعات میں اضافہ سے بے یقینی اور عدم استحکام کا شکار ہیں، جو کاروباری سرگرمیوں کو مفلوج کر سکتی ہیں۔

صدر کاٹی نے کہا کہ تاجروں اور صنعتکاروں کو مسلسل دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، کئی کاروباری شخصیات کو بھتے کی پرچیاں گولیوں کے ساتھ بھیجی جا رہی ہیں، اور متاثرہ افراد خوف کے باعث شکایات درج کرانے سے گریز کر رہے ہیں۔

یہ صورتحال نہ صرف تاجروں بلکہ پورے صنعتی ڈھانچے کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے، کیونکہ خوف اور غیر یقینی کا ماحول سرمایہ کاری اور روزگار دونوں کے لیے زہرِ قاتل ہے۔

محمد اکرام راجپوت نے رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صرف رواں سال کے دوران کراچی میں بھتہ خوری کے 96 سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں سب سے زیادہ واقعات ضلع وسطی (37 کیسز)، ضلع غربی (20 کیسز)، ضلع شرقی (15 کیسز) اور ضلع سٹی (12 کیسز) میں سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ضلع ملیر میں 5 اور کورنگی میں 3 رپورٹ ہوئے جبکہ حساس اداروں اور پولیس کی کارروائیوں کے دوران اب تک 33 بھتہ خور گرفتار اور 4 مبینہ ملزمان پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کورنگی سمیت شہر کے مختلف صنعتی علاقوں میں فیکٹری مالکان خوف کے سائے میں کاروبار کر رہے ہیں۔ کچھ زیر تعمیر عمارتوں پر حالیہ دنوں میں فائرنگ کے واقعات بھی پیش آئے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھتہ خور عناصر بے خوف ہو چکے ہیں۔

صدر کاٹی نے کہا کہ کاروباری برادری کی جانب سے پہلے بھی حکومت کو متنبہ کیا گیا تھا، لیکن مؤثر اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔

محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ کراچی میں بھتہ خوری کا نیٹ ورک مختلف گروپس کے زیراثر چل ر ہے ہیں ، ان گروہوں کی سرگرمیاں نہ صرف شہر کے امن کے لیے خطرہ ہیں بلکہ ان کے ذریعے بھتے کی رقم بیرون ملک منتقل کیے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔

صدر کاٹی نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر بروقت اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو کراچی کے صنعتکار وں کی کارکردگی پھر خوف و ہراس کی فضا میں شدید متاثر ہوگی، جس کے ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

انہوں نے گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ سندھ، ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ سے اپیل کی کہ وہ فوری طور پر مشترکہ حکمت عملی کے تحت بھتہ خوری کے نیٹ ورکس کو ختم کریں، تاجروں اور صنعتکاروں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کریں، اور ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ حکومت فوری اقدامات کرکے کراچی کو ایک بار پھر کاروبار، روزگار اور سرمایہ کاری کا مرکز بنائے جس میں کاٹی سمیت بزنس کمیونٹی حکومت سے بھرپور تعاون کیلئے تیار ہے۔

Related Posts