اندرون سندھ جامشورو کے علاقے محمد کھوسو گوٹھ میں ایک انتہائی دلخراش واقعہ پیش آیا ہے جہاں خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے تعلق رکھنے والی 26 سالہ حاملہ خاتون صبرو بابر (صبرو پٹھان) کو مبینہ طور پر اغوا اور وحشیانہ جنسی درندگی کے بعد قتل کر دیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقتولہ کی لاش پہاڑی علاقے سے برآمد ہوئی، جبکہ وہ گزشتہ دس روز سے لاپتہ تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق صبرو بابر چار بچوں کی ماں تھی اور گھروں میں جا کر خواتین کے کپڑے اور دیگر اشیاء فروخت کر کے اپنے خاندان کی کفالت کرتی تھی۔
اہلِ خانہ کے مطابق اسے دس روز قبل اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد سے وہ لاپتہ تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب مقتولہ کے اہلِ خانہ نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ دار افراد کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ ورثا کا کہنا ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔
بعد ازاں اس واقعے کا مقدمہ مقتولہ کے شوہر کی مدعیت میں درج کر لیا گیا ہے جس میں پانچ معلوم اور آٹھ نامعلوم ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے۔ نامزد ملزمان میں معشوق ولد غفور کھوسہ، دادن ولد لطیف کھوسہ، راٹو ولد نواز علی کھوسہ، جانی ولد بشام کھوسہ اور نورو کھوسہ شامل ہیں، جبکہ دیگر ملزمان کی تلاش جاری ہے۔
پولیس کے مطابق تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید حقائق سامنے آئیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








