بھارت میں ہندو انتہاپسندوں کی ”اخلاقی پولیس“ نے ہندو لڑکی کے ساتھ بس میں سفر کرنے پر مسلمان لڑکے کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق واقعہ بھارتی ریاست کرناٹک کے شہر منگلورو میں جمعرات کی شام کو پیش آیا جس میں ملوث ملزمان کا تعلق مبینہ طور پر بجرنگ دل سے بتایا جارہا ہے۔ لڑکے کی شناخت 20 سالہ سید راسیم عمر کے نام سے ہوئی۔
متاثرہ لڑکے نے منگلورو ایسٹ پولیس میں شکایت درج کرائی اور الزام لگایا کہ اسے بجرنگ دل کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیاں ملی ہیں۔ پولیس نے ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا۔
پولیس کے مطابق جوڑا کیرالا سے آنیوالی بس میں سفر کر رہا تھا جب تین سے چار نامعلوم افراد نے بس کو روکا اور مسلمان لڑکے کو باہر نکال کر ان پر تشدد کیا، پولیس کے مطابق یہ اخلاقی پولیسنگ کا بھی واقعہ ہو سکتا ہے۔ نامعلوم افراد نے نوجوان کا آئی ڈی کارڈ بھی مانگا، سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے واقعے میں ملوث افراد کی نشاندہی کی کوشش کر رہے ہیں۔
کرناٹک میں ہندو انتہاپسند جماعتوں کی جانب سے اخلاقی پولیسنگ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، ستمبر میں ضلع دکشن کنڑا میں ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا جب ہندو لڑکی سے دوستی کرنے پر ایک مسلمان لڑکے کو مارا پیٹا گیا اور جان سے مار ڈالنے کی دھمکی بھی دی گئی، ضلع دکشن کنڑا میں ہی اپریل کے مہینے میں ہندو خاتون کو ساتھ بٹھانے پر مسلمان رکشہ ڈرائیور پر تشدد کیا گیا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








