اسلام آباد: سابق پاکستانی سفیر کی بیٹی نور مقدم کیس میں عینی شاہد نے بڑا انکشاف کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ قتل کے شواہد ملزم ظاہر جعفر کے والدین نے مٹائے۔
تفصیلات کے مطابق نور مقدم قتل کیس نے نیا رخ اختیار کر لیا۔ عینی شاہد نے ایم ایم نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس روز نور مقدم کو قتل کیا گیا، اسی دن ملزم ظاہر جعفر نے 4 لڑکیوں کو پہلے سے اپنے گھر میں بلایا ہوا تھا اور پارٹی ہورہی تھی۔ اس کے بعد مقتولہ کو بھی گھر بلایا گیا۔
گفتگو کے دوران عینی شاہد نے کہا کہ مقتولہ نور مقدم اور ملزم ظاہر جعفر کی آپس میں کسی بات پر تکرار ہوئی۔ ملزم نے پستول میں گولی لوڈ کی جو نشے کی وجہ سے الٹی لوڈ ہوگئی۔ ملزم گولی چلانے کی کوشش کرتا رہا لیکن فائر نہیں ہوسکا۔ بعد ازاں ملزم نے چھری سے نور مقدم پر حملہ کردیا۔
عینی شاہد کے بیان کے مطابق نور مقدم نے روشن دان سے بھاگ نکلنے کی کوشش کی، تاہم وہ کامیاب نہیں ہوسکی اور ملزم نے اسے قتل کردیا۔ گھر میں شور شرابا ہونے پر 4 لوگ گھر کے باہر آئے۔ ان میں سے ایک شخص گھر کے اندر گیا اور کوئی پیغام ظاہر جعفر کو دیا جس پر ملزم طیش میں آگیا۔
بیان کے مطابق ملزم نے پیغام دینے والے شخص پر فائر کرنے کی کوشش کی جس پر وہ شخص گھر سے بھاگ نکلا۔ دونوں گھریلو ملازمین نے ملزم ظاہر جعفر کے والدین کو فون پر تمام تفصیلات بتائیں لیکن پولیس کو اطلاع نہیں کی۔ تفصیلات سن کر ملزم کے والدین کراچی سے فوراً اسلام آباد پہنچ گئے۔
وفاقی دارالحکومت پہنچ کر والدین نے قتل کے تمام ثبوت مٹا دئیے۔ عینی شاہد کا کہنا ہے کہ ملزم ظاہر جعفر اور مقتولہ نور مقدم کے موبائل فونز چھپا لیے گئے ہیں جو پولیس کو نہیں مل سکے۔ واردات کے بعد ثبوت مٹانے اور موبائل چھپانے کے باعث ہی پولیس نے گھریلو ملازمین اور والدین کو گرفتار کیا۔
دوسری جانب ظاہر جعفر نے اسلام آباد میں جو تھراپی سینٹر سنٹر بنا رکھا تھا، وہ بھی جعلی نکلا۔ ضلعی انتظامیہ نے ملزم کا تھراپی سینٹر سیل کردیا ہے۔ ملزم نے سینٹر کا الحاق برطانیہ کی معروف فرم کے ساتھ ظاہر کیا تھا تاہم برطانوی فرم نے رابطہ کرنے پر الحاق سے انکار کردیا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی، خاتون سے جنسی زیادتی، 14 ماہ کا بچہ قتل، ماں بھی دم توڑ گئی
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








