ہم نے افغانستان سے 175 شہریوں کا انخلاء ممکن بنایا۔فیس بک کا دعویٰ

تازہ ترین

تازہ ترین

ہم نے افغانستان سے 175 شہریوں کا انخلاء ممکن بنایا۔فیس بک کا دعویٰ
ہم نے افغانستان سے 175 شہریوں کا انخلاء ممکن بنایا۔فیس بک کا دعویٰ

کیلیفورنیا: فوٹو شیئرنگ اور سماجی رابطے کی سب سے بڑی ویب سائٹ فیس بک نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے افغانستان سے 175 شہریوں کا انخلاء ممکن بنایا ہے۔

تفصیلات کے مطابق فیس بک نے افغان شہریوں کے ملک چھوڑ کر فرار ہونے میں مدد دینے کا دعویٰ کردیا۔ فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہم نے سماجی کارکنان، صحافیوں اور اہلِ خانہ سمیت 75 بچوں کا افغانستان سے انخلاء ممکن بنایا۔

دوسری جانب میکسیکن حکومت نے فیس بک کی تصدیق کردی۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ افغانستان سے آنے والی فلائٹ میں عملے کے کارکنان کے علاوہ دیگر افراد بھی موجود تھے جنہیں کورونا کی روک تھام کیلئے قرنطینہ کردیا گیا ہے۔

فیس بک انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فیس بک کے ملازمین کو افغانستان چھوڑنے میں مدد کرتے ہوئے ہم نے صحافیوں اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی کابل ائیرپورٹ سے نکلنے میں مدد فراہم کی۔ فیس بک نے میکسیکن قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

اس کے علاوہ فیس بک نے افغان شہریوں کی حفاظت کیلئے ون کلک نامی فیچر متعارف کراتے ہوئے بتایا کہ شہریوں کو اپنا اکاؤنٹ ایک ہی کلک میں لاک کرنے کی سہولت حاصل ہوگی جس سے انہیں امتیازی فوائد ملیں گے۔

ایک ہی کلک میں افغان شہریوں کی فرینڈ لسٹ کے علاوہ کوئی اجنبی شخص شہریوں کی پروفائل اور تصویر دیکھنے سے محروم ہوجائے گا۔ ان کی تصاویر ڈاؤن لوڈ بھی نہیں کی جاسکیں گی۔ قبل ازیں فیس بک طالبان کے مواد پر پابندی لگانے کا اعلان کرچکی ہے۔

 ایک وقت تھا جب فیس بک کی ایپ کے اندر ہی صارفین دوستوں کے ساتھ چیٹ کر سکتے تھے لیکن فیس بک نے بعد میں اس فیچر کو الگ کر دیا اور صارفین کو میسنجر ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے اور استعمال کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔

اس پالیسی کے بعد بہت سے لوگ فیس بک ایپ اور میسنجر کو الگ الگ استعمال کرنے کے عادی ہو چکے ہیں تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ فیصلہ غلط ثابت ہوا اور فیس بک انتظامیہ نے بھی تسلیم کیا کہ فیصلے میں خامیاں موجود ہیں۔

مزید پڑھیں: فیس بک کا صارفین کے لیے نئے فیچر متعارف کرانے کا اعلان

Related Posts