اداکار پریش راول کی فلم “دی تاج اسٹوری” ایک خیالی عدالت پر مبنی ڈراما ہے جو اس جھوٹے اور بارہا رد کیے گئے نظریے پر مبنی ہے کہ تاج محل دراصل ایک ہندو مندر “تیجو مہالیہ” تھا۔
فلم میں پریش راول آگرہ کے ایک مقامی ٹور گائیڈ وشنو داس کا کردار ادا کر رہے ہیں، جو تاج محل کی تاریخ پر اپنی ذاتی تحقیق کے بعد اس کے روایتی بیانیے کو عدالت میں چیلنج کرتا ہے۔
فلم کے ٹریلر اور پروموشنل مواد میں یہ تاثر دیا گیا ہے کہ تاج محل محبت کی نہیں بلکہ ’’ظلم اور نسل کشی کی علامت‘‘ ہے۔ فلم میں عمارت کے معمارانہ پہلوؤں پر سوال اٹھائے گئے ہیں، خصوصاً تہہ خانے میں موجود 22 بند کمروں پر توجہ دی گئی ہے، جن کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان میں ہندو بت یا ایسے نوادرات چھپے ہیں جو اس عمارت کے مندر ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔
کہانی عدالت کے اندر ایک قانونی معرکے کے طور پر سامنے آتی ہے، جہاں پریش راول کا کردار خود اپنا دفاع کرتا ہے اور ان کے مقابلے میں ذاکر حسین ایک وکیل کے کردار میں ہیں۔
فلم نے ریلیز سے پہلے ہی تنازع کھڑا کر دیا۔ ناقدین نے اسے ’’پروپیگنڈا‘‘ اور ’’تاریخی تحریف‘‘ (historical revisionism) قرار دیا۔
ایک متنازع پوسٹر کے بعد، جس میں تاج محل کے گنبد کے اندر شیو دیوتا کی مورتی دکھائی گئی تھی، فلم سازوں نے وضاحتی بیان جاری کیا کہ “فلم کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ تاج محل کے اندر شیو کا مندر ہے۔ فلم کا موضوع صرف تاریخی حقائق تک محدود ہے۔”
تاہم فلم کے ٹریلر سے واضح ہوتا ہے کہ کہانی براہِ راست اسی غیر مصدقہ ’’مندر تھیوری‘‘ کو ایک جذباتی انداز میں پیش کرتی ہے۔
سنجیدہ محققین، جن میں ولیم ڈل رِمپل اور روچکا شرما جیسے نامور مؤرخ شامل ہیں، اس نظریے کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں کہ تاج محل دراصل کوئی ہندو مندر تھا۔
مورخین کا کہنا ہے کہ تاج محل کی تعمیر مغل دور کے سب سے زیادہ مستند تاریخی واقعات میں سے ایک ہے، جس کے بارے میں عدالت کے ریکارڈ، معمارانہ خاکے اور یورپی سیاحوں کی عینی شہادتیں دستیاب ہیں، جو اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ یہ عمارت شاہ جہاں نے اپنی بیوی ممتاز محل کی یاد میں ایک مقبرے کے طور پر تعمیر کروائی تھی۔
بیشتر ناقدین کے مطابق یہ فلم ’’پروپیگنڈا‘‘ پر مبنی ہے اور ’’تاریخ کے لبادے میں سیاسی ایجنڈا‘‘ پیش کر کے مذہبی کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش کرتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








