اسلام آباد: پولیس کی ملی بھگت سے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کے مبینہ جعلی مشیر جسٹس شہزاد قمر کی رہائی کیلئے راہ ہموار کردی گئی ہے جبکہ ملزم کو ایک ریٹائرڈ کرنل نے پولیس کے حوالے کیا تھا۔
تفصیلات کے مطابق 10 روز قبل 6،اگست کو مبینہ طور پر مشکوک مرسیڈیز گاڑی اے اے ایف 777 میں جعلی جسٹس شہزاد قمر چیئرمین نیب کا قانونی مشیر بن کر اپنے جعلی اسٹاف اور ڈرائیور کے ہمراہ بلیک میل کرنے آیا جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیااور واقعے کا مقدمہ بھی درج ہوا۔
ملزم نے گریڈ 21/22 کے سول اور پولیس افسران کو بھی بلیک میل کرنے کا اقرار کیا جس پر لٹنے والے افسران بھی متحرک ہو گئے۔شرمندگی سے بچنے اور نشاندہی کے خوف سے اپنے ناموں کی پردہ پوشی کیلئے ساری بیوروکر یسی رات بھر جاگتی رہی اور پھر اس آفت سے جان چھڑانے کیلئےنئی راہ تلاش کر لی گئی۔
بیوروکریسی نے گاڑی بغیر لیبارٹری ٹیسٹ کروائے سفا گولڈ مال کے حال ہی میں جیل سے رہا ھونے والے مالک کے حوالے کر دی، مبینہ طور پر 2 سالوں سے ایک مافیا نے شہزاد قمر کو جعلسازی پر لگایا ہوا تھا جو اربوں روپے کی وصولی کر چکے ہیں اور ہر جگہ بدنامی چئیر مین نیب کی ہوئی۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ نیب نے اس واقعے کے خلاف اپنی طرف سے کوئی ایف آئی آر درج نہیں کروائی۔ ممکن ہے کہ اس بڑے اسکینڈل میں با اثر لوگ شامل ہوں مگر 10 دن کے اندر ہی ملزم کی رہائی کیلئے راہ ہموار کر دی گئی۔ نیب اگر ملزم سے خود تفتیش کرتی تو اسے کئی بد عنوان اعلی افسران کا بھی علم ھو جاتا جس بنیاد پر یہ نوسر باز ان سے بھاری وصول کرنے میں کامیاب ہوا ۔
یاد رہے کہ اِس سے قبل اسلام آباد میں پولیس نے فراڈ پر کارروائی کرتے ہوئے چیئرمین نیب کے جعلی مشیرِ قانون کو گرفتار کر لیا جبکہ ملزم نے ملک ریاض سمیت دیگر شخصیات سے لمبی چوڑی رقوم وصول کرنے کا اعتراف کیا۔
چیئرمین نیب کے جعلی مشیرِ قانون کو شہرِ اقتدار میں تھانہ مارگلہ کی حدود میں گرفتار کیا گیا جبکہ جعلساز شخص اپنے آپ کو چیئرمین نیب کا قانونی مشیر ظاہر کر رہا تھا۔ پولیس نے اسے جسٹس شہزاد قمر بشیر، مشیر برائے چیئرمین نیب کہلوانے پر رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد پولیس نے چیئرمین نیب کا جعلی مشیرِ قانون گرفتارکرلیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








