اسلام آباد :آئیسکو جی سکس سب ڈویژن میں کرپشن در کرپشن کے ساتھ اختیارات سے تجاوز معمول بن گیا جبکہ بجلی چور پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل کے ساتھ انڈر ہینڈ ڈیل کرنے کے بعد ایس ڈی او کے جعلی دستخط سے پولیس کو جعلی لیٹر لکھ کر معاملہ دفن کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایس ڈی سی اور سپر وائزر نے مخصوص عزائم کی تکمیل کے لیے آئیسکو سمیت پولیس کو بیوقوف بنا دیا تاہم ایس ڈی او نے اعلیٰ افسران کے سامنے پول کھول دیا لیکن ایس ڈی سی اور سپروائزر انکوائری کمیٹی میں پیش نہیں ہوئے۔
آئیسکو جی سکس سب ڈویژن کے ایس ڈی او محمد سجاد اور خالد سپروائزر کے بجلی چور سے مبینہ ڈیل کرکے کیس واپس لینے کے اصل حقائق سامنے آگئے ہیں ۔
بجلی چور اسلام آباد پولیس کے ہیڈ کانسٹیبل کو پہلے پھنسانے کے بعد اچانک یو ٹرن لیتے ہوئے جو کیس واپس لینے کا لیٹر لکھا گیا اس پر مبینہ طور پر ایس ڈی او کے جعلی دستخط کیے گئے ہیں جس کی تصدیق خود ایس ڈی او محمد سجاد نے کر دی ۔
ایس ڈی او محمد سجاد نے بتایا کہ آئیسکو کے اعلیٰ افسران نے انکوائری کمیٹی بنائی ہے جو بجلی چوری کی ڈیل اور جعلی دستخط کے معاملے کی تحقیقات کریں گئے،اس ضمن میں آئیسکو کے سپروائزر خالد کا کہنا تھا کہ جعلی دستخط ایس ڈی او کی غیر موجودگی میں ایس ڈی سی نے کیے ۔
اس ضمن میں ایس ڈی سی کا کہنا تھا کہ بجلی چور جرمانہ جمع کرانے کے بعد بجلی بحالی اور مقدمے کو روکنے کے لیے شور شرابا کر رہے تھے جس وجہ سے میں نے دستخط کرکے لیٹر جاری کیا۔
یاد رہے کہ آئیسکو ٹیم نے جی سکس ون ٹو میں ریڈ کرکے پولیس ہیڈ کانسٹیبل کے گھر بجلی چوری پکڑنے کا دعویٰ کیا تھا جس کے بعد ملزم کیخلاف 46 ہزار جرمانہ کرکے اندراج مقدمہ کی درخواست دی تھی تھانہ آبپارہ میں نصراللہ اے ایس آئی کے پاس جمع ہوئی ۔
ایس ڈی او سجاد سے وویمن تھانہ میں تعینات ہیڈ کانسٹیبل عابدہ نے بجلی چور ہیڈ کانسٹیبل کی مبینہ طور پر 1لاکھ پچاس ہزار روپے میں ڈیل کروادی جس کے جعلی دستخط سے لیٹر لکھ کر معاملے پر مٹی ڈال دی۔
مزید پڑھیں:آئیسکواسکینڈل میں چھوٹے افسران کو سزاء ،بڑے افسران کو بچالیا گیا
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








