راولپنڈی:کمسن بچی اقرا ء فاطمہ سے زیادتی کرنے والے بااثر ملزمان نے پولیس کو مبینہ طورمکمل طور پر خرید اہوا ہے، زیادتی کرنے والے ملزمان ہنگو کوہاٹ کے رہائشی ہیں،جبکہ آر پی او راولپنڈی اور منسٹر شہریار آفریدی بھی اسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جو مبینہ طور پر اس کیس پر مسلسل اثر انداز ہورہے ہیں۔
اقراء فاطمہ متاثرہ بچی کی والدہ نے آبدیدہ ہوکر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تھانہ روات کے تفتیشی افسر محمد زین جس نے ملزمان سے مبینہ طور پر تین لاکھ روپے لیے تھے،ہمیں روزانہ تھانے میں ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے بلوا لیتا لیکن شام کو پھر واپس بھیج دیتا۔
اسی طرح تقریبا ایک ہفتے یہ سلسلہ جاری رہا لیکن ڈی این اے ٹیسٹ نہ کرایا،جبکہ دوسرے تفتیشی افسر اظہر گوندل نے مجھے اپنی بہن بنا کر میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی،میری بیٹی کی عمر 12 سال 8 ماہ ہے تفتیش میں اس نے میری بیٹی کو خاتون ظاہر کیا۔

گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








