اسرائیل میں سرمایہ کاری کرنے پر معروف ہالی ووڈ اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو کو شدید تنقید کا سامنا

تازہ ترین

تازہ ترین

معروف ہالی ووڈ اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو نیتن یاہو اور اس کی بیوی کے ساتھ
ہالی ووڈ اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو نیتن یاہو اور ان کی بیوی کے ساتھ، فوٹو غیرملکی میڈیا

معروف ہالی ووڈ اداکار لیونارڈو ڈی کیپریو کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا سامنا ہے، جب یہ انکشاف ہوا کہ اسرائیل میں تعمیر ہونے والے ایک پرتعیش ہوٹل میں ان کی بھی 10 فیصد سرمایہ کاری ہے۔

یہ ہوٹل پروجیکٹ ایسے وقت میں منظور کیا گیا جب اسرائیل غزہ پر وحشیانہ جنگ مسلط کیے ہوئے ہے، جسے عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ماہرین نسل کشی قرار دے چکے ہیں۔

دی یروشلم پوسٹ کے مطابق “فلاور مون” فلم کے اداکار ڈی کیپریو نے ہرزلیہ مارینا میں بننے والے ہوٹل پروجیکٹ میں 10 فیصد حصہ لیا ہے، جبکہ باقی سرمایہ کاری ہگاگ گروپ اور اخیم کوہن اور لیور کوہن جیسے کروڑ پتی بھائیوں کی جانب سے کی گئی ہے۔

یہ ہوٹل 51 ہزار مربع میٹر پر محیط ہوگا، ساحل سمندر کے قریب واقع ہوگا اور اسے ماحولیاتی طور پر محفوظ (ایکو سرٹیفائیڈ) قرار دیا گیا ہے۔

جیسے ہی یہ خبر منظر عام پر آئی، سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ متعدد صارفین نے ڈی کیپریو کو آڑے ہاتھوں لیا کہ وہ ایسے وقت میں اسرائیل میں سرمایہ لگا رہے ہیں جب وہاں نہتے فلسطینیوں پر مظالم ہو رہے ہیں۔

ایک انسٹاگرام صارف نے لکھا کہ اس شخص اور اس کی فلموں کا بائیکاٹ کرو اور ان تمام کمپنیوں کا بھی جو معصوم انسانوں کو قتل اور بھوکا مارنے والوں کی حمایت کرتی ہیں۔

ایک اور صارف نے تبصرہ کیا کہ ایک اور نیو لبرل جو ماحولیاتی انصاف کے نام پر محض سرمایہ بچانے کا کھیل کھیل رہا ہے۔
جبکہ ایک اور نے کہا کہ فلسطین نے ان فنکاروں کا اصل چہرہ دکھا دیا جو ہمدردی کا جھوٹا لبادہ اوڑھے ہوئے تھے۔ اب ہمیں پتہ چل گیا کہ یہ کون ہیں۔

معروف مصنف اور کارکن شان کنگ سمیت کئی افراد نے ڈی کیپریو پر منافقت کا الزام عائد کیا ہے۔ تاہم ڈی کیپریو کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی عوامی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

سوشل میڈیا پر ردعمل کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے اور صارفین ڈی کیپریو کے ساتھ ساتھ ان تمام برانڈز پر تنقید کر رہے ہیں جو اسرائیل میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں یا اس کی حمایت کرتے ہیں۔

 

 

 

Related Posts